حدیث نمبر: 39691
٣٩٦٩١ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: (أخبرنا) (١) موسى بن عبيدة (عن عبد اللَّه بن دينار عن ابن عمر -وعن أخيه عبد اللَّه بن عبيدة-) (٢) أن رسول اللَّه ﷺ دخل مكة حين دخلها وهو (معتجر) (٣) بشقة برد أسود، فطاف على راحلته القصواء ⦗٥٤⦘ في يده محجن يستلم به الأركان، قال: قال ابن عمر: فما وجدنا لها مناخا (في) (٤) المسجد حتى نزل على أيدي الرجال، ثم خرج بها حتى (أنيخت) (٥) في الوادي، ثم خطب الناس على (رجليه) (٦) فحمد اللَّه وأثنى عليه بما هو (له) (٧) أهل، ثم قال: "أيها الناس إن اللَّه قد وضع عنكم عُبِّيَّةَ الجاهلية وتَعَظُّمَها (بآبائها) (٨) الناس [رجلان، (فبر) (٩) تقي كريم على اللَّه، وكافر شقي هين على اللَّه، أيها الناس] (١٠) إن اللَّه يقول: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ (أَتْقَاكُمْ) (١١) إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ [الحجرات: ١٣] أقول هذا وأستغفر اللَّه لي ولكم"، قال: ثم عدل إلى جانب المسجد فأتي بدلو من ماء زمزم فغسل منها وجهه، (ما) (١٢) (تقع) (١٣) منه قطرة إلا في يد إنسان، إن كانت قدر ما يحسوها حساها، وإلا مسح بها، والمشركون ينظرون، فقالوا: ما رأينا ملكا قط أعظم من اليوم، ولا قوما أحمق من اليوم، ثم أمر بلالا فرقي على ظهر الكعبة، فأذن بالصلاة، وقام المسلمون (فتجردوا) (١٤) في الأزر، وأخذوا الدلاء وارتجزوا على زمزم يغسلون الكعبة ظهرها ⦗٥٥⦘ وبطنها، فلم يدعوا أثرا من المشركين إلا محوه أو غسلوه (١٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیاہ رنگ کی چادر کی پگڑی کے شملہ کو اپنے چہرے پر ڈالے ہوئے تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قصواء اونٹنی پر بیت اللہ کا طواف کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں ایک خمدار سوٹی تھی جس کے ذریعہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارکان کا استلام کر رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کے لئے مسجد میں بٹھانے کی جگہ نہ پائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے ہاتھوں پر نیچے تشریف فرما ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کو باہر نکالا گیا اور اس کو وادی میں بٹھایا گیا پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی تعریف کی اور ایسی ثنا بیان کی جس کے آپ اہل تھے اور فرمایا : ٢۔ اے لوگو ! تحقیق اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا غرور و نخوت ختم کردیا ہے اور جاہلیت کے زمانہ پر اپنے آباء کے ذریعہ اظہار عظمت کو بھی ختم کردیا ہے۔ (اب) لوگ دو قسم پر ہیں۔ نیک اور متقی آدمی اللہ تعالیٰ کے قابل عزت و تکریم ہے اور کافر، بدبخت اللہ تعالیٰ پر ہلکا اور بےوزن ہے۔ اے لوگوں ! بلاشبہ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ : اے لوگو ! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے۔ اور تمہیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لئے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو ۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کچھ جاننے والا ہے ہر چیز سے باخبر ہے۔ میں یہ بات کہتا ہوں اور اپنے اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا طالب ہوں۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کے ایک طرف چل دئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زمزم کے پانی کا ایک ڈول لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اپنا چہرہ مبارک دھویا۔ اس کے دھو ون میں سے ہر ایک قطرہ بھی انسانی ہاتھ ہی میں گرا۔ پھر اگر و ہ قطرہ اتنا ہوتا جس کو پیا جاسکتا تھا تو وہ آدمی اس کو پی لیتا وگرنہ اس کو اپنے اوپر مَل لیتا ۔ مشرکین مکہ (یہ منظر) دیکھ رہے تھے ۔ تو وہ کہنے لگے ۔ ہم نے (جو بادشاہت) آج دیکھی ہے اس سے بڑی بادشاہی کبھی نہیں دیکھی اور نہ ہی ایسی قوم دیکھی ہے جو آج دیکھی ہوئی قوم سے زیادہ بیوقوف ہے۔ ٤۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم فرمایا چناچہ وہ کعبہ کی چھت پر چڑھ گئے اور انہوں نے نماز کے لئے اذان دی۔ اور مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے اور محض ازار بند پہنے ہوئے انہوں نے ڈول پکڑ لیے اور زمزم پر شعر کہتے ہوئے پہنچ گئے اور کعبہ کو انہوں نے اندر باہر سے دھو ڈالا اور مشرکین کے کسی اثر کو کعبہ میں باقی نہیں چھوڑا بلکہ اس کو مٹا دیایا دھو دیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [أ، ب]: (معتمر).
(٤) هكذا في [هـ]، وفي بقية النسخ: (وفي).
(٥) في [ب]: (نيخت).
(٦) في [س]: (راحلته).
(٧) سقط من: [ب].
(٨) في [أ، ب]: (يا بالها).
(٩) في [أ، ب]: (فير).
(١٠) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(١١) في [ع]: (أثقاكم).
(١٢) في [أ، ب]: (ماءً).
(١٣) في [ب، ع، ي]: (يقع).
(١٤) في [أ، ب]: (وتجردوا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39691
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف موسى بن عبيدة، أخرجه الترمذي (٣٢٧٠)، وابن ماجه (٣٥٨٦)، والخطيب ٦/ ٢٣، وعبد بن حميد (٧٩٥)، وابن جرير في مسند ابن عباس من تهذيب الآثار (٧٢)، والفاكهي (٤٥٩)، وابن أبي حاتم (١٨٦٢٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39691، ترقيم محمد عوامة 38074)