حدیث نمبر: 39688
٣٩٦٨٨ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة (عن ثابت) (٢) عن ⦗٥٣⦘ أنس أن ثمانين من أهل مكة هبطوا على رسول اللَّه ﷺ من جبل التنعيم عند صلاة الفجر، فأخذهم رسول اللَّه ﷺ سلما، فعفا عنهم ونزل القرآن: ﴿وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ (بِبَطْنِ) (٣) (مَكَّةَ) (٤) مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ﴾ [الفتح: ٢٤] (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ اہل مکہ میں سے اسی (٨٠) افراد، جبل تنعیم سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر (حملہ کے لئے) اُترے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو صحیح وسالم پکڑ لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں معاف فرما دیا۔ اور یہ آیت نازل ہوئی ۔ : اور وہی اللہ ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان تک پہنچنے سے روک دیا۔ جبکہ وہ تمہیں ان پر قابو دے چکا تھا۔
حواشی
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) سقط من: [ع].
(٤) سقط من: [ع].