حدیث نمبر: 39685
٣٩٦٨٥ - حدثنا أحمد بن مفضل قال: (حدثنا) (١) أسباط بن نصر قال: زعم السدي عن مصعب بن سعد عن أبيه قال: لما كان يوم فتح مكة أمن رسول اللَّه ﷺ الناس إلا أربعة نفر وامرأتين وقال: "اقتلوهم وإن وجدتموهم متعلقين بأستار الكعبة"، عكرمة بن أبي جهل، وعبد اللَّه بن خطل، ومقيس بن صبابة، وعبد اللَّه ابن سعد بن أبي سرح. ⦗٥١⦘ فأما عبد اللَّه بن خطل فأدرك وهو متعلق بأستار الكعبة (فاستبق) (٢) إليه سعيد ابن (حريث) (٣) وعمار، فسبق سعيد عمارا، وكان (أشب) (٤) الرجلين فقتله. وأما مقيس بن صبابة فأدركه الناس في السوق فقتلوه. وأما عكرمة فركب البحر فأصابتهم عاصف، فقال أصحاب (السفينة) (٥) لأهل السفينة: أخلصوا، فإن آلهتكم لا تغني عنكم شيئا هاهنا، فقال عكرمة: واللَّه لئن لم (ينجني) (٦) في البحر إلا الإخلاص ما ينجيني في البر [غيره اللهم (إن) (٧) لك عهدًا إن أنت عافيتني مما أنا فيه أني آتي محمدا حتى أضع يدي في يده فلأجدنه عفوا كريمًا، قال: فجاء وأسلم] (٨). وأما عبد اللَّه بن سعد بن أبي سرح فإنه اختبأ عند عثمان، فلما (دعا) (٩) رسول اللَّه ﷺ (الناس) (١٠) (للبيعة) (١١) جاء به حتى أوقفه على النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه بايع عبد اللَّه، قال: فرفع رأسه فنظر إليه ثلاثًا (كل) (١٢) ذلك يأبى فبايعه بعد الثلاث، ثم أقبل على أصحابه فقال: " (أما) (١٣) كان فيكم رجل رشيد ⦗٥٢⦘ (يقوم) (١٤) إلى هذا حيث رآني كففت يدي عن (بيعته) (١٥) فيقتله"، قالوا: وما يدرينا يا رسول اللَّه ما في نفسك ألا أومأت إلينا بعينك؟ قال: "إنه لا ينبغي لنبي أن (تكون) (١٦) له خائنة أعين" (١٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مصعب بن سعد، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام لوگوں کو امن دے دیا سوائے چار مرد اور دو عورتوں کے ، اور ارشاد فرمایا : تم لوگ ان کو اگرچہ کعبہ کے پردوں میں بھی لپٹا ہوا پاؤ ان کو تب بھی قتل کر ڈالو۔ (وہ یہ لوگ تھے) عکرمہ بن ابی جہل، عبد اللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبد اللہ بن ابی سرح، پھر عبد اللہ بن خطل کو تو اس حالت میں پایا گیا کہ وہ (واقعۃً ) کعبہ کے پردوں میں لپٹا ہوا تھا۔ تو اس کی طرف حضرت سعید بن حریث اور عمار (دونوں) لپکے لیکن حضرت سعید، حضرت عمار سے آگے بڑھ گئے اور یہ سعید، عمار سے زیادہ جوان تھے۔ اور انہوں نے ابن خطل کو قتل کردیا۔ اور مقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پا لیا اور اس کو (وہیں) قتل کردیا اور رہا عکرمہ، تو سمندر میں (کشتی پر) سوار ہوا تو ان (کشتی والوں) کو تیز آندھی نے آلیا۔ چناچہ کشتی والوں نے سواروں سے کہنا شروع کیا۔ (خدا کو) خالص طریقہ سے پکارو، کیونکہ تمہارے معبودان (باطلہ) یہاں پر تمہیں کسی شئی کا فائدہ نہیں دیں گے۔ عکرمہ نے (دل میں) کہا۔ بخدا ! اگر مجھے اس سمندر میں خالص طریقہ پر (خدا کو) پکارنا ہی نجات دے سکتا ہے تو پھر خشکی پر بھی یہی نجات دے سکتا ہے۔ اے اللہ ! میرا تیرے ساتھ عہد ہے کہ اگر آپ مجھے اس موجودہ مصیبت سے عافیت عطا کریں گے تو میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں رکھ دوں گا میں ضرور بالضرور ان کو معاف کرنے والا اور کرم کرنے والا پاؤں گا۔ راوی کہتے ہیں : پس یہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرلیا۔ اور عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کا معاملہ یہ ہوا کہ وہ حضرت عثمان کے ہاں (جا کر) چھپ گیا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا تو حضرت عثمان ، ان کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں آنجناب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کھڑا کردیا اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! عبد اللہ سے بیعت لے لیجئے۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اوپر اٹھایا اور ان کی طرف تین مرتبہ دیکھا۔ ہر مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار فرمایا۔ پھر تین مرتبہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بیعت فرما لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا ۔ کیا تم میں سے کوئی سمجھ دار آدمی موجود نہیں تھا جو اس کو (مارنے) کھڑا ہوجاتا جبکہ اس نے مجھے دیکھا تھا کہ میں نے اپنا ہاتھ اس کی بیعت لینے سے روکا ہو اتھا۔ اور اس کو قتل کردیتا ۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہمیں کیا علم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اپنی آنکھ کے ساتھ اشارہ کیوں نہیں کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ کسی نبی کے لئے یہ بات مناسب نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کرنے والی ہو۔

حواشی
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: (فاستيق).
(٣) في [ط]: (كريب).
(٤) في [أ، ب]: (أشبه).
(٥) في [س]: بياض.
(٦) في [أ، ق، هـ]: (ينجيني).
(٧) سقط من: [س].
(٨) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٩) في [ب]: (رعا)، وفي [س]: (دعى).
(١٠) سقط من: [جـ، ي].
(١١) في [أ، ب، س، ع، ي]: (إلى البيعة).
(١٢) في [أ، ب]: (أكل).
(١٣) في [هـ]: (ما).
(١٤) في [ب]: (القوم).
(١٥) في [ق، هـ]: (بيعة).
(١٦) في [ب]: (يكون).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39685
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أحمد بن مفضل صدوق، وكذلك أسباط والسدي، أخرجه أبو داود (٢٦٨٣)، والنسائي (٣٥٣٠)، والحاكم ٣/ ٤٥، والبزار (١١٥١)، والطحاوي ٣/ ٣٣٠، وأبو يعلى (٧٥٧)، والدارقطني ٣/ ٥٩، والبيهقي ٨/ ٢٠٢، والضياء ٣/ (١٠٥٤)، وابن عبد البر في التمهيد ٦/ ١٧٥، وابن بشكوال ١/ ١٢٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39685، ترقيم محمد عوامة 38068)