٣٩٦٨١ - حدثنا سليمان بن حرب قال: (حدثنا) (١) حماد بن (زيد) (٢) عن ⦗٤٩⦘ أيوب عن أبي الخليل عن مجاهد أن النبي ﷺ قدم يوم الفتح والأنصاب بين الركن والمقام، فجعل يكفئها (لوجو) (٣) هها، ثم (قام) (٤) رسول اللَّه ﷺ خطيبا فقال: "ألا إن مكة حرام أبدا التي يوم القيامة، لم (تحل) (٥) لأحد قبلي، (ولا) (٦) (تحل) (٧) لأحد بعدي، غير أنها أحلت لي ساعة من النهار، لا يختلى خلاها، ولا ينفر صيدها، ولا يعضد شجرها، ولا يلتقط لقطتها، إلا أن تعرف"، (فقام) (٨) العباس فقال: يا رسول اللَّه (٩) إلا الإذخر (لصاغتنا) (١٠) (وبيوتنا وقبورنا) (١١)، فقال: "إلا الإذخر، إلا الإذخر" (١٢).حضرت مجاہد بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن تشریف لائے تو رکن اور مقام کے درمیان بت پڑے ہوئے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان بتوں کو اوندھے منہ گرا دیا۔ اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو ارشاد فرمایا۔ ” خبردار ! مکہ قیامت کے دن تک ہمیشہ کے لئے حرم (محترم) ہے۔ مجھ سے پہلے بھی یہ خطہ کسی کے لئے حلال نہیں ہوا تھا۔ اور نہ ہی میرے بعد یہ خطہ کسی کے لئے حلال ہوگا۔ ہاں اتنی بات ہے کہ میرے لئے اس مقام کو دن کے کچھ حصہ کے لیے حلال کردیا گیا ہے۔ اس علاقہ (مکہ) کی گھاس کو نہیں کاٹا جائے گا اور اس کے شکار کو بدکایا نہیں جائے گا اور نہ ہی اس کے درختوں کو کاٹا جائے گا۔ اور نہ ہی اس میں گری پڑی چیز کو اٹھایا جائے گا اِلَّا یہ کہ اس لقطہ کی تعریف کرنے کا ارادہ ہو۔ ” (یہ بات سن کر) حضرت عباس کھڑے ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اذخر (گھاس کی قسم) کو مستثنیٰ کر دیجئے ہمارے لوہاروں، گھروں اور قبروں میں استعمال کے لیے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا۔ ہاں اذخر مستثنیٰ ہے ۔ ہاں اذخر مستثنیٰ ہے۔