حدیث نمبر: 39679
٣٩٦٧٩ - حدثنا شبابة بن سوار قال: (حدثنا) (١) نعيم بن حكيم قال: حدثني أبو مريم عن علي قال: انطلق بي رسول اللَّه ﷺ حتى أتى بي الكعبة فقال: "اجلس"، فجلست إلى جنب الكعبة وصعد رسول اللَّه ﷺ على منكبي، [ثم قال لي: "انهض بي"، فنهضت به، فلما رأى ضعفي تحته قال: "اجلس"، فجلست فنزل عني وجلس لي فقال: "يا علي اصعد على منكبى"] (٢)، فصعدت على (منكبه) (٣)، ثم نهض بي رسول اللَّه ﷺ (٤) [فلما (نهض) (٥) بي خيل إلي ⦗٤٨⦘ (أني) (٦) لو شئت نلت أفق السماء، فصعدت على الكعبة، وتنحى رسول اللَّه ﷺ] (٧) فقال لي: " (ألق) (٨) صنمهم الأكبر (صنم) (٩) قريش"، وكان من نحاس، وكان (موتودا) (١٠) بأوتاد من حديد في الأرض، فقال لي رسول اللَّه ﷺ: "عالجه"، فجعلت أعالجه ورسول اللَّه ﷺ يقول: "إيه"، (فلم) (١١) أزل أعالجه حتى استمكنت منه فقال: "اقذفه"، (فقذفته) (١٢) ونزلت (١٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ساتھ لے کر چلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے لے کر کعبہ میں پہنچے اور پھر فرمایا۔ بیٹھ جاؤ۔ چناچہ میں کعبہ کی ایک جانب بیٹھ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے کندھوں پر سوار ہوئے اور پھر مجھے فرمایا۔ مجھے لے کر اوپر اٹھو۔ مں ر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر اوپر اٹھا لیکن (جب) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اٹھا کر کھڑے ہونے میں کمزوری دیکھی تو پھر فرمایا۔ بیٹھ جاؤ۔ چناچہ میں نیچے بیٹھ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے اوپر سے اتر گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لئے بیٹھ گئے اور فرمایا۔ اے علی رضی اللہ عنہ ! میرے کندھوں پر سوار ہو جاؤ۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر سوار ہوگیا پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے لے کر اوپر کی طرف بلند ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے لے کر اوپر اٹھے تو مجھے یہ خیال ہوا کہ اگر میں چاہوں تو میں آسمان افق کو بھی ہاتھ میں لاسکتا ہوں پھر میں کعبہ کی چھت پر چڑھ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک طرف ہٹ گئے اور مجھے ارشاد فرمایا۔ (اوپر موجود) بتوں میں سے سب سے بڑے بت کو جو کہ قریش ہے نیچے پھینک دو ۔ اور وہ بت تانبے کا تھا اور لوہے کی کیلوں کے ساتھ چھت پر گاڑھا ہوا تھا۔ تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا : اس کو ہلاؤ۔ چناچہ میں نے اس کو ہلانا شروع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے فرماتے جا رہے تھے۔ اور ہلاؤ، اور ہلاؤ۔ پس میں اس کو ہلاتا رہا یہاں تک کہ وہ بت میرے قابو میں آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اس کو نیچے پھینک دو ۔ چناچہ میں نے اس بت کو نیچے پھینک دیا اور پھر میں (خود بھی) نیچے اتر آیا۔

حواشی
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [أ، ب، ع].
(٣) في [ب]: (منكبيه).
(٤) سقط من: [س، ع].
(٥) في [جـ]: (نض).
(٦) سقط من: [ي]، وفي [ق]: (أن).
(٧) سقط ما بين المعكوفين من: [ب].
(٨) في [أ، ب]: (التي).
(٩) في [هـ]: (فصنم).
(١٠) في [أ، ب]: (موثودًا).
(١١) في [ب]: (ولم).
(١٢) سقط من: [ب].
(١٣) مجهول؛ لجهالة أبي مريم، أخرجه أحمد (٦٤٤)، والحاكم ٢/ ٢٦٦، وأبو يعلى (٢٩٢)، والنسائي (٨٥٠٧)، والضياء ٢ (٧٠٨)، وابن جرير في مسند علي من تهذيب الآثار ٣/ ٢٣٦ (٣١)، والبزار (٧١٩)، وإسحاق كما في المطالب (٤٢٢٤)، والخطيب ١٣/ ٣٠٢.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39679
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39679، ترقيم محمد عوامة 38062)