حدیث نمبر: 39678
٣٩٦٧٨ - حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح (عن مجاهد) (١) عن أبي معمر عن عبد اللَّه قال: دخل النبي ﷺ مكة وحول الكعبة ثلاثمائة وستون صنما فجعل يطعنها بعود كان في يده ويقول: ﴿وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ [الإسراء: ٨١] ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ﴾ [سبأ: ٤٩] (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کے گرد تین سو ساٹھ بت موجود تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس لکڑی سے مارنا شروع فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں تھی اور فرمایا۔ ” حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقینا باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹنے والی ہے “۔ ” حق آچکا ہے اور باطل میں نہ کچھ شروع کرنے کا دم ہے اور نہ دوبارہ کرنے کا۔
حواشی
(١) سقط من: [جـ].