٣٩٦٧٧ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا (المغيرة) (١) بن مسلم عن أبي الزبير عن جابر قال: دخلنا مع النبي ﷺ مكة (وفي البيت) (٢) وحول البيت ثلاثمائة وستون صنما تعبد من دون اللَّه، قال: فأمر بها رسول اللَّه ﷺ (فكبت) (٣) كلها لوجوهها، ثم قال: ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ [الإسراء: ٨١]، ثم دخل رسول اللَّه ﷺ (٤) البيت فصلى (فيه) (٥) ركعتين، فرأى فيه تمثال إبراهيم ⦗٤٧⦘ وإسماعيل وإسحاق (وقد جعلوا) (٦) في يد إبراهيم الأزلام يستقسم بها، فقال رسول اللَّه ﷺ: "قاتلهم اللَّه، ما كان إبراهيم يستقسم بالأزلام"، ثم دعا رسول اللَّه ﷺ بزعفران فلطخه بتلك التماثيل (٧).حضرت جابر سے روایت ہے کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ میں (بھی) داخل ہوئے اور بیت اللہ کے گرد تین سو ساٹھ بت ایسے موجود تھے جن کی خدا کے سوا عبادت کی جاتی تھی … راوی بیان کرتے ہیں : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان بتوں کے بارے میں حکم فرمایا تو تمام بتوں کو اوندھے منہ گرا دیا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقینا باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹنے والی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کے اندر داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ میں دو رکعات نماز ادا فرمائی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ میں ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کی ( طرف منسوب) تصویریں دیکھیں اس حال میں کہ ان کے ہاتھوں میں مشرکین نے تیروں (کی تصویر) بنائی ہوئی تھی جن کے ذریعہ سے قسمت آزمائی کی جاتی تھی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ منظر دیکھ کر) ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ان (مشرکین) کو ہلاک کرے ، ابراہیم تو تیروں سے قسمت آزمائی نہیں کرتے تھے۔ پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زعفران منگوایا اور اس کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تصاویر کو مسخ فرما دیا۔