حدیث نمبر: 39669
٣٩٦٦٩ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا سليمان بن المغيرة قال: حدثنا ثابت البناني عن عبد اللَّه بن رباح قال: وفدت وفود إلى معاوية وفينا أبو هريرة، وذلك في رمضان فجعل بعضنا يصنع لبعض الطعام، قال: فكان أبو هريرة ممن يصنع لنا فيكثر فيدعونا إلى رحله، قال: قلت (٢): (ألا) (٣) أصنع لأصحابنا فأدعوهم إلى رحلي؟ قال: فأمرت بطعام (فصنع) (٤) (ولقيت) (٥) أبا هريرة من العشي، فقلت: الدعوة عندي الليلة، قال: أسبقتني؟ قال: قلت: نعم، قال: فدعوتهم فهم عندي، قال: قال أبو هريرة: ألا أعللكم بحديث من حديثكم يا معشر الأنصار. قال: ثم ذكر فتح مكة قال: أقبل رسول اللَّه ﷺ حتى دخل مكة، وبعث الزبير ابن العوام على إحدى المجنِّبتين، وبعث خالد بن الوليد على المجنبة الأخرى، وبعث أبا عبيدة على الحسر، فأخذوا بطن الوادي، قال: ورسول اللَّه ﷺ في كتيبة. قال: فناداني، قال: "يا أبا هريرة"، قلت: لبيك يا رسول اللَّه، قال: "اهتف لى بالأنصار، ولا يأتيني إلا أنصاري"، قال: فهتفت بهم، قال: فجاؤوا ⦗٢٦⦘ حتى أطافوا به، قال: "وقد (وبّشت) (٦) قريش (أوباشا لها) (٧) وأتباعا"، قالوا: (تقدم) (٨) هؤلاء كان (لهم) (٩) (شيء) (١٠) كنا معهم، وإن أصيبوا أعطينا الذي سئلنا. فقال رسول اللَّه ﷺ للأنصار حين أطافوا به: " (أترون) (١١) إلي أوباش قريش وأتباعهم"، ثم قال بيديه إحداهما على الأخرى: [(١٢) "احصدوهم" -ثم ضرب سليمان بحرف كفه اليمنى على بطن كفه اليسرى] (١٣) - حصدا حتى (توافوا) (١٤) بالصفا". قال: فانطلقنا فما أحد منا يشاء أن يقتل منهم أحدا إلا قتله، (وما) (١٥) أحد منهم يوجه إلينا شيئًا، فقال أبو سفيان: يا رسول اللَّه أبيحت خضراء قريش بعد هذا اليوم، قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أغلق بابه فهو آمن، (ومن دخل دار أبي سفيان فهو آمن) (١٦) " قال: (فغلق) (١٧) الناس أبوابهم. قال: فأقبل رسول اللَّه ﷺ حتى استلم الحجر وطاف بالبيت، فأتى على صنم إلى جنب البيت يعبدونه، وفي يده قوس وهو آخذ بسية القوس، فجعل ⦗٢٧⦘ يطعن بها في عينه ويقول: ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ﴾ (١٨) [الإسراء: ٨١]، حتى إذا فرغ من طوافه أتى الصفا فعلاها حيث ينظر إلى البيت فرفع يديه وجعل يحمد اللَّه ويذكره ويدعو بما شاء (اللَّه) (١٩) أن يدعو، قال: والأنصار (تحته) (٢٠) قال: (تقول) (٢١) الأنصار بعضها لبعض: أما الرجل فأدركته رغبة في قريته ورأفة بعشيرته. [قال: قال أبو هريرة: وجاء الوحي، وكان إذا جاء الوحي لم يَخْفَ علينا، فليس أحدٌ من الناس يرفع طرفه إلى رسول اللَّه ﷺ حتى يُقضى، فلما قضي الوحي قال رسول اللَّه ﷺ: "يا معشر الأنصار"، قالوا: لبيك يا رسول اللَّه، قال: "قلتم، أما الرجل فأدركته رغبة في قريته ورأفة بعشيرته"] (٢٢)، قالوا: قد قلنا (ذلك) (٢٣) يا رسول اللَّه، قال: "فما أسمى إذن، كلا إني عبد اللَّه ورسوله، (هاجرت) (٢٤) إلي اللَّه وإليكم، (المحيا) (٢٥) محياكم والممات مماتكم"، (قال) (٢٦): فأقبلوا إليه يبكون يقولون: واللَّه -يا رسول اللَّه- ما قلنا الذي قلنا إلا للضن باللَّه (وبرسوله) (٢٧) قال: "فإن اللَّه ورسوله يعذرانكم ويصدقانكم" (٢٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن رباح بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ کی طرف کچھ وفود گئے اور ہم میں حضرت ابوہریرہ بھی تھے۔ یہ رمضان کے دنوں کی بات ہے۔ پس ہم میں سے بعض، بعض کے لئے کھانے کی دعوت کا اہتمام کرتے۔ راوی کا بیان ہے۔ حضرت ابوہریرہ ان میں سے تھے جو ہمارے لئے بہت زیادہ کھانے کی دعوت کا اہتما م کرتے تھے۔ اور ہمیں اپنے کجاوہ (منزل) کی طرف بلا لیتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے (دل میں) کہا کہ کیوں نہ میں اپنے ساتھیوں کے لئے دعوت کا اہتمام کروں اور انہیں اپنے کجاوہ کی طرف بُلاؤں ۔ کہتے ہیں : پس میں نے کھانے کا کہا اور وہ تیار کرلیا گیا اور شام کو حضرت ابوہریرہ سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے (ان سے) کہا ۔ آج کی رات میری طرف دعوت ہے۔ انہوں نے (آگے سے) فرمایا : کیا تم مجھ پر (آج) سبقت لے گئے ہو ؟ کہتے ہیں : میں نے کہا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : پس میں نے سب کو بلایا اور وہ میرے پاس آگئے۔ حضرت ابوہریرہ کہنے لگے۔ اے گروہ انصار ! کیا میں تمہیں، تمہاری باتوں میں سے ہی کچھ سُناؤں ؟ راوی کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے فتح مکہ کا (واقعہ) ذکر کیا۔ ٢۔ حضرت ابوہریرہ کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میمنہ اور میسرہ میں سے ایک لشکر پر حضرت زبیر کو مقرر فرمایا اور حضرت خالد بن الولید کو دوسرے لشکر پر مقرر فرمایا۔ اور حضرت ابو عبیدہ کو خالی ہاتھ لوگوں پر مقرر فرمایا۔ پھر وہ لوگ وادی کے آنگن میں داخل ہوگئے۔ ابوہریرہ بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چھوٹے سے لشکر میں تھے۔ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے آواز دی ۔ فرمایا۔ اے ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا۔ میں حاضر ہوں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے لئے انصار کو آواز دو ۔ میرے پاس صرف میرے انصار (صحابہ) ہی آئیں۔ ابوہریرہ کہتے ہیں۔ پس میں نے انہیں آواز دی۔ کہتے ہیں : وہ سب حاضر ہوگئے یہاں تک کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے جھرمٹ میں لے لیا۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں : قریش نے اپنے بہت سے پیرو اور متفرق لوگوں کو جمع کر رکھا تھا۔ اور قریش کہہ رہے تھے۔ ہم ان لوگوں کو (پہلے) آگے بھیجیں گے پس اگر ان کو کچھ (فائدہ) ملا تو ہم ان کے ساتھ شریک ہوں گے اور اگر یہ لوگ مارے گئے تو ہم سے جو سوال کیا گیا ہم وہ دے چکے ہوں گے۔ ٤۔ جب انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے جھرمٹ میں لیا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا۔ قریش کے پیرو اور ان متفرق لوگوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ مار کر اشارہ فرماتے ہوئے کہا۔ ان کو مار ڈالو… سلمان راوی نے بھی اپنے دائیں ہتھیلی کے کنارے کو بائیں ہتھیلی پر مارا … ان کو خوب مارو یہاں تک کہ تم مجھے صفاء پر ملو ۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر ہم اس حالت میں روانہ ہوئے کہ ہم سے جو کوئی بھی اُن (اتباعِ قریش) میں سے کسی کو قتل کرنا چاہے تو اس کو قتل کرسکتا تھا۔ اور ان مں سے کوئی بھی ہمیں کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ ابو سفیان نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! قریش کے عوام کو مباح قرار دیا گیا ہے ؟ (پھر تو) آج کے بعد قریش (باقی) نہیں ہوں گے… راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنا دروازہ بند کرلے گا وہ مامون ہوگا اور جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے گا وہ بھی مامون ہوگا۔ راوی کہتے ہیں : پھر لوگوں نے اپنے اپنے دروازے بند کرلیے۔ ٥۔ ابوہریرہ کہتے ہیں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا اور بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب رکھے ہوئے بُت کی طرف آئے جس کی مشرکین مکہ عبادت کرتے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں (اس وقت) کمان تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ٹیڑھی جانب سے پکڑا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قوس (کمان) کو اس بت کی آنکھ میں مارنا شروع کیا اور ارشاد فرمایا : حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقینا باطل ایسی چیز ہے جو مٹنے والی ہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا پہاڑی کی طرف آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر اس جگہ تک بلند ہوئے جہاں سے بیت اللہ دکھائی دیتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند کئے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف اور خدا کا ذ

حواشی
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) في [ب]: زيادة (له).
(٣) في [ب، جـ]: (لا).
(٤) في [هـ]: (يصنع).
(٥) في [أ، ب]: (وكفيت).
(٦) في [أ، ب، ع]: (وبثت)، وفي [س]: (وثبت)، وفي [هـ]: (ولشت).
(٧) في [هـ]: (أوباشها).
(٨) في [أ، ب، جـ، ع، ي]: (يقدم)، وفي [هـ]: (فإن تقدم).
(٩) في [أ، ب]: (لنا).
(١٠) في [هـ]: (شر).
(١١) في [ع]: (ترون).
(١٢) من هنا بدأ سقط من: [أ، ب]، ومن هنا تكرر ما في [هـ].
(١٣) في [هـ]: تكرر ما بين المعكوفين
(١٤) في [س]: (تطافوا).
(١٥) في [هـ]: (وأما).
(١٦) سقط من: [أ، ب، هـ].
(١٧) في [ي]: (فأغلق فغلق).
(١٨) في [جـ]: زيادة: ﴿إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾.
(١٩) سقط من: [هـ].
(٢٠) سقط من: [أ، ب، ي].
(٢١) في [أ، ط، هـ]: (يقول).
(٢٢) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٢٣) في [جـ، ي]: (ذاك).
(٢٤) في [أ، ب]: (صرت).
(٢٥) سقط من: [أ، ب].
(٢٦) سقط من: [ع].
(٢٧) في [أ، ب]: (ورسوله).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39669
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٨٠)، وأحمد (١٠٩٤٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39669، ترقيم محمد عوامة 38054)