حدیث نمبر: 39666
٣٩٦٦٦ - حدثنا ابن إدريس عن مالك بن أنس عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: سمعت عمر يقول: لولا أن يُترك آخر الناس لا شيء لهم ما افتتح المسلمون قرية من قرى الكفار إلا قسمتها بينهم سهمانا، كما قسم رسول اللَّه ﷺ خيبر سهمانا، ولكني أردت أن تكون (جرية) (١) تجري على المسلمين، وكرهت أن يترك آخر الناس لا شيء (لهم) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ اگر یہ ضابطہ نہ ہوتا کہ لشکر کے آخری حصہ کو کچھ نہ ملے تو مسلمان کافروں کی جو بستی بھی فتح کرتے میں اسے مسلمانوں کے درمیان حصوں میں تقسیم کردیتا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کو مسلمانوں میں حصوں میں تقسیم فرما دیا۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ایک اصول مسلمانوں میں چلتا رہے۔ اور میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ بعد کے لوگوں کو کچھ نہ دیا جائے۔

حواشی
(١) هكذا في [هـ]، وفي [أ، ب، س، ط، ع]: (جزية).
(٢) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (له).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39666
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٣٣٤)، وأحمد (٢٨٤)، وتقدم ١٢/ ٣٤١ برقم [٣٥١٨٧].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39666، ترقيم محمد عوامة 38051)