٣٩٦٦٥ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: حدثنا أبو منين عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: قال نبي اللَّه ﷺ: "لأدفعن اليوم الراية التي رجل يحبه اللَّه ورسوله"، فتطاول (القوم) (١) فقال: "أين علي؟ " فقالوا: يشتكي (عينه) (٢)، فدعاه فبزق في كفيه ومسح بهما عين علي، ثم دفع إليه الراية ففتح اللَّه عليه يومئذ (٣).حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آج کے دن میں ایک ایسے آدمی کے ہاتھ میں جھنڈا دوں گا کہ جس سے اللہ اور اس کے رسول محبت کرتے ہیں۔ اس پر لوگوں نے اوپر اوپر اٹھ کر دیکھنا شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ علی رضی اللہ عنہ کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا : ان کی آنکھ میں شکایت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں پر تھوکا اور ان کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھ پر پھیرا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا حوالہ کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسی دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی۔