حدیث نمبر: 39664
٣٩٦٦٤ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) قال: حدثنا نعيم بن (حكيم) (٢) عن أبي مريم عن علي قال: سار رسول اللَّه ﷺ إلى خيبر، فلما أتاها بعث عمر ومعه الناس إلى (مدينتهم) (٣) (أو) (٤) إلى قصرهم، فقاتلوهم فلم يلبثوا أن انهزم عمر وأصحابه، (فجاء) (٥) (يجبنهم) (٦) ويجبنونه، فساء ذلك رسولَ اللَّه ﷺ فقال: "لأبعثن إليهم رجلًا يحب اللَّه ورسوله ويحبه اللَّه ورسوله، يقاتلهم حتى يفتح اللَّه له ليس بفرار"، ⦗٢٣⦘ فتطاول الناس لها، (ومدوا) (٧) أعناقهم يرونه أنفسهم رجاء ما قال، (٨) فمكث ساعة ثم قال: "أين علي؟ " فقالوا: هو أرمد، فقال: "ادعوه لي"، فلما أتيته فتح عيني ثم تفل (فيهما) (٩)، ثم أعطاني اللواء فانطلقت به سعيا خشية أن يحدث رسول اللَّه ﷺ (١٠) فيهم حدثًا أو فِيّ، حتى أتيتهم (فقاتلتهم) (١١) فبرز مرحب يرتجز، وبرزت له أرتجز كما يرتجز حتى التقينا، فقتله اللَّه بيدي، وانهزم أصحابه فتحصنوا وأغلقوا الباب، (فأتينا الباب) (١٢) فلم أزل أعالجه حتى فتحه اللَّه (١٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کی طرف سفر فرمایا پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر میں پہنچ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر اور ان کے ہمراہ کچھ لوگوں کو اہل خیبر کے شہر یا قلعہ کی طرف روانہ فرمایا۔ انہوں نے (جا کر) ان کے ساتھ لڑائی کی ۔ لیکن کچھ ہی دیر میں یہ مسلمانوں کا گروہ … حضرت عمر اور ان کے ساتھی … پسپا ہوگیا۔ پس حضرت عمر ، اپنے ساتھیوں کو اور ان کے ساتھی حضرت عمر کو بزدلی کا طعنہ دیتے ہوئے ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں) واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات ناگوار گزری اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ” اب میں ضرور یہود کی طرف ایسا آدمی بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور اللہ اور اس کے رسول بھی اس سے محبت کرتے ہوں گے۔ وہ ان کے ساتھ لڑتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسی کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائیں گے۔ وہ آدمی بھاگنے والا نہیں ہوگا۔ “ (یہ بات سن کر) بہت سے لوگ اس کے امیدوار بن گئے اور اپنی گردنیں دراز کرنے لگے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہے ہوئے کو اپنے بارے میں دیکھنے کے منتظر ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے پھر ارشاد فرمایا : علی رضی اللہ عنہ کہاں ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا۔ وہ تو آشوب چشم میں مبتلا ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کو میرے پاس بلاؤ۔ پھر جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری آنکھیں کھولیں اور ان میں اپنا لعاب مبارک ڈالا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جھنڈا عطا فرمایا۔ اور میں اس جھنڈے کو لے کر دوڑتا ہوا چلا کہ مبادا میرے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں کوئی خیال نہ آجائے یا کسی اور کے بارے میں کوئی خیال نہ آجائے۔ یہاں تک کہ میں دشمنوں کے پاس پہنچ گیا اور میں نے ان کے ساتھ قتال کیا۔ مرحب یہودی رجزیہ اشعار پڑھتا ہوا مبارزت کے لئے آیا تو میں بھی اس کے جواب میں رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے مبارزت کے لئے باہر نکلا پھر ہماری باہم مڈبھیڑ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو میرے ہاتھ سے قتل کروا دیا۔ اور اس کے ساتھی پسپا ہوگئے اور قلعہ بند ہوگئے انہوں نے دروازہ بند کرلیا۔ ہم دروازہ پر پہنچے پس میں نے مسلسل دروازہ پر ضرب لگائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کھول دیا۔

حواشی
(١) في [س]: (عبد اللَّه).
(٢) في [أ، جـ، ع]: (حكم).
(٣) في [جـ]: (مدينهم).
(٤) في [أ، ب]: (أما).
(٥) في [س]: (وجاء).
(٦) في [ب]: (بجيشهم).
(٧) في [س]: (ومدور).
(٨) في [أ، ب]: زيادة (قال).
(٩) في [ب]: (فيها).
(١٠) سقط من: [ع].
(١١) في [س]: (فقاتلهم).
(١٢) سقط من: [س].
(١٣) مجهول؛ لجهالة أبي مريم الثقفي، أخرجه الحاكم ٣/ ٣٧، والبزار (٧٧٠).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39664
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39664، ترقيم محمد عوامة 38049)