٣٩٦٥٦ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: حدثنا رافع بن سلمة الأشجعي قال: حدثني حشرج بن زياد الأشجعي عن جدته أم أبيه أنها غزت مع رسول اللَّه ﷺ عام خيبر سادسة ست نسوة، فبلغ (٢) رسول اللَّه ﷺ فبعث إلينا، فقال: "بأمر من خرجتن؟ " ورأينا فيه الغضب، فقلنا: يا رسول اللَّه خرجنا ومعنا دواء نداوي به، ونناول السهام، ونسقي السويق، ونغزل الشعر، نعين به في سبيل اللَّه، فقال لنا: "أقمن"، فلما أن فتح اللَّه عليه خيبر قسم لنا كما قسم للرجال (٣).حضرت حشرج بن زیاد اشجعی اپنی دادی سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ چھ عورتوں کے ساتھ خیبر کے دن جہاد میں شرکت کی، پھر یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچ گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف قاصد بھیجا اور پوچھا کہ تم کس کے کہنے پر (جہاد میں) نکلی ہو ؟ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس سوال میں غصہ محسوس کیا تو ہم نے کہا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم (جہاد میں) نکلی ہیں اور ہمارے پاس دوائیں بھی ہیں جن کے ذریعہ ہم علاج کریں گی۔ اور ہم تیر پکڑائیں گی اور ستو پلائیں گی اور ہم وہ شعر کہیں گی۔ جن کے ذریعہ سے ہم راہ خدا میں (مجاہدین کی) مدد کریں گی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ پھر تم (یہیں) رہو۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیبر کی جنگ میں فتح نصیب فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کو جس طرح حصہ دیا، اسی طرح ہمیں بھی حصہ دیا۔