حدیث نمبر: 39653
٣٩٦٥٣ - حدثنا علي بن هاشم قال: (حدثنا) (١) (٢) ابن أبي (ليلى) (٣) [عن المنهال والحكم وعيسى (عن) (٤) عبد الرحمن بن أبي (ليلى) (٥)] (٦) قال: قال علي: ما كنت معنا يا أبا (ليلى) (٧) بخيبر؟ قلت: بلى واللَّه، لقد كنت معكم، قال: فإن رسول اللَّه ﷺ بعث أبا بكر (فسار) (٨) بالناس فانهزم حتى رجع (٩)، وبعث عمر فانهزم بالناس حتى انتهى إليه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لأعطين الراية رجلا يحب اللَّه ورسوله ويحبه اللَّه ورسوله (يفتح اللَّه له) (١٠) ليس بفرار"، قال: فأرسل إلي فدعاني فأتيته -وأنا أرمد إلا أبصر (شيئًا) (١١) -[(فدفع) (١٢) إلي الراية فقلت: يا رسول اللَّه كيف وأنا أرمد لا أبصر (شيئا؟) (١٣)] (١٤) قال: فتفل في عيني، ثم قال: "اللهم اكفه الحر والبرد"، قال: فما آذاني بعد حر ولا برد (١٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اے ابو لیلیٰ ! تم خیبر میں ہمارے ساتھ نہیں تھے ؟ میں نے عرض کای : کیوں نہیں ! بخدا میں تو تمہارے ساتھ تھا۔ (پھر) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو بھیجا اور وہ لوگوں کو لے کر (میدان کی طرف) چلے لیکن پسپا ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف واپس تشریف لے آئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو بھیجا وہ بھی لوگوں کے ہمراہ پسپا ہوگئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف واپس آگئے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ (اب) میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔ وہ بھاگنے والا آدمی نہیں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں… پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف آدمی بھیجا اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلایا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اس حال میں حاضر ہوا کہ میں آشوب چشم میں مبتلا تھا۔ اور مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جھنڈا عطا فرمایا۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! (یہ مجھے آپ) کیسے دے رہے ہیں ؟ جبکہ مجھے تو آشوب چشم ہے اور میں کچھ نہیں دیکھ رہا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی۔ اے اللہ ! تو ان کو سردی اور گرمی سے کافی ہوجا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ مجھے اس کے بعد کبھی سردی یا گرمی نے تکلیف نہیں دی۔

حواشی
(١) في [جـ، ي]: (عن).
(٢) في [س]: زيادة (المنهال عن).
(٣) في [جـ]: (ليلا).
(٤) في [جـ]: (ابن).
(٥) في [جـ]: (ليلا).
(٦) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٧) في [جـ]: (ليلا).
(٨) في [ع]: (سار).
(٩) في [هـ]: زيادة (إليه).
(١٠) سقط من: [ب]، وفي [ي]: (يفتح له اللَّه).
(١١) في [جـ]: بياض.
(١٢) في [س]: (فدعا).
(١٣) سقط من: [س].
(١٤) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39653
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال ابن أبي ليلى فهو سيئ الحفظ، أخرجه الحاكم ٣/ ٣٧، وأحمد (٧٧٨)، وابن ماجه (١١٧)، وسبق ١٢/ ٦٢ برقم [٣٤٢٥١].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39653، ترقيم محمد عوامة 38038)