٣٩٦٥٢ - حدثنا شاذان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال عمر: إن (النبي) (١) ﷺ قال: "لأدفعن اللواء غدا إلي رجل يحب اللَّه ورسوله يفتح اللَّه به"، قال عمر: ما تمنيت (الإمرة) (٢) إلا يومئذ، فلما كان الغد تطاولت لها، قال: فقال: "يا علي قم اذهب فقاتل ولا (تلتفت) (٣) حتى يفتح اللَّه عليك"، فلما (قفى) (٤) كره أن يلتفت، فقال: يا رسول اللَّه (علام) (٥) أقاتلهم؟ قال: "حتى يقولوا: لا إله إلا اللَّه، فإذا (قالوها) (٦) حرمت دماؤهم وأموالهم إلا بحقها" (٧).حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کل میں جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا ۔ اللہ پاک اس کے ذریعہ فتح عطا فرمائیں گے۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ میں نے امارت کی تمنا اس دن کے سوا کبھی نہیں کی۔ پھر جب اگلا دن (کل کا دن) آیا تو میں اس کو اونچا ہو کر دیکھنے لگا۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے علی رضی اللہ عنہ ! کھڑے ہو جاؤ، جاؤ اور جا کر لڑو۔ کسی طرف توجہ نہ کرنا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تیرے (ہاتھ) پر فتح دے دیں۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رُخ پھیرا تو انہوں نے (واپس) مڑنا ناپسند کیا ۔ عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں ان کفار سے کس بات پر لڑوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ (لڑو) یہاں تک کہ وہ کہہ دیں۔ لا الہ الا اللّٰہ۔ پس جب وہ یہ بات کہہ دیں تو ان کے اموال اور ان کے خون محفوظ ہوجائیں گے سوائے کسی حق کی صورت میں۔