٣٩٦٤٩ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا عوف (عن) (١) ميمون أبي عبد اللَّه عن عبد اللَّه بن بريدة (٢) الأسلمي عن أبيه قال: لما نزل رسول اللَّه ⦗١٥⦘ بحضرة خيبر فزع أهل خيبر وقالوا: جاء محمد في أهل يثرب، قال: فبعث رسول اللَّه ﷺ عمر بن الخطاب بالناس فلقي أهل خيبر فردوه وكشفوه هو وأصحابَه، فرجعوا إلى رسول اللَّه ﷺ) (٣) يجبن أصحابه ويجبنه أصحابه، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "لأعطين اللواء غدا رجلا يحب اللَّه ورسوله، (ويحبه اللَّه ورسوله) (٤) "، قال: فلما كان الغد تصادر لها أبو بكر وعمر، قال: فدعا عليا وهو يومئذ أرمد فتفل في عينه وأعطاه اللواء قال: فانطلق بالناس، قال: فلقي أهل خيبر ولقي مرحبا الخيبري، وإذا هو يرتجز (ويقول) (٥): قد علمت (خيبر أني مرحب) (٦) … شاكي السلاح بطل مجرب إذا (الليوث) (٧) أقبلت تلهب … أطعن أحيانا وحينا أضرب قال: فالتقى هو وعلي (فضربه علي ضربة على هامته) (٨) بالسيف، عض السيف منها بالأضراس، وسمع صوت ضربته أهل العسكر، قال: فما تتام آخر الناس حتى فتح لأولهم (٩).حضرت عبد اللہ بن بریدہ اسلمی ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر کے علاقہ میں فروکش ہوئے تو اہل خیبر گھبرا گئے اور کہنے لگے۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اہل یثرب کے ہمراہ آگئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب کو چند لوگوں کے ہمراہ بھاجٓ وہ اہل خیبر سے ملے لیکن اہل خیبر نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو واپس کردیا پس یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اس حالت میں حاضر ہوئے کہ حضرت عمر اپنے ساتھیوں کو بزدل کہہ رہے تھے اور ان کے ساتھی انہیں بزدلی کا کہہ رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں جھنڈا کل ایسے آدمی کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس (آدمی) سے محبت کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پس جب اگلا دن آیا تو حضرت ابوبکر اور عمر اس جھنڈے کے امیدوار تھے۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس وقت آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھ میں تھتکارا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو عَلَم تھما دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو لے کر چل دئیے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ کا سامنا اہل خیبر سے ہوا اور مرحب خیبری سے آپ کا سامنا ہواتو وہ یہ رجز پڑھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ ع تحقیق خیبر والے جانتے ہیں کہ میں مرحب ہوں، اسلحہ سے لیس اور تجربہ کار بہادر ہوں۔ جب شیرآگے بڑھتے ہیں تو میں شعلہ وار ہوجاتا ہوں، کبھی نیزہ بازی کرتا ہوں اور کبھی تلوار بازی۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور مرحب کا ٹکراؤ ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی کھوپڑی پر تلوار کے ساتھ ایسی ضرب لگائی ۔ کہ تلوار نے اس کی کھوپڑی سے داڑھوں تک کاٹ کر رکھ دیا۔ اور آپ کی ضرب کی آواز تمام لشکر نے سُنی مسلمانوں کے لشکر کے ابتدائی حصہ کو اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کردی۔