حدیث نمبر: 39647
٣٩٦٤٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) ابن عون عن عمرو بن سعيد عن أبي طلحة قال: كنت ردف النبي ﷺ يوم خيبر، فلما انتهينا وقد خرجوا بالمساحي، فلما رأونا قالوا: محمد واللَّه، محمد (٢) والخميس، (فقال) (٣) رسول اللَّه ﷺ (٤): " (اللَّه) (٥) أكبر انا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طلحہ سے روایت ہے کہ خیبر کے دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ جب ہم (خیبر) پہنچے تو وہ لوگ (اپنے کھیتوں میں) بیلچوں کے ساتھ نکل چکے تھے۔ پس جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو کہنے لگے۔ محمد ! بخدا ! محمد اور لشکر ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ اکبر ! جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [أ]: زيادة (واللَّه).
(٣) في [ي]: (قالوا).
(٤) سقط من: [ع].
(٥) في [أ، ب]: (واللَّه).
(٦) منقطع؛ عمرو بن سعيد لا يروي عن أبي طلحة، أخرجه الشاشي (١٠٧٦)، وورد من حديث عمرو عن الحسن عن أبي طلحة، وأخرجه أحمد (١٦٣٤٧)، والطبراني (٤٧٠٤)، والشاشي (١٠٥٥)، وورد عن أنس عند البخاري (٣٧١)، ومسلم (١٣٦٥).