٣٩٦٤٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس أن النبي ﷺ كان لا (يُغير) (٢) حتى يصبح فيستمع، فإن سمع أذانا أمسك، وإن لم يسمع أذانا أغار، قال: فأتى خيبر، وقد خرجوا من حصونهم فتفرقوا في أرضيهم، معهم مكاتلهم وفؤوسهم (ومرورهم) (٣)، فلما رأوه قالوا: محمد والخميس، فقال رسول اللَّه ﷺ: " (اللَّه) (٤) أكبر خربت خيبر، إنا إذا نزلنا بساحة فساء صباح المنذرين"، فقاتلهم حتى فتح اللَّه عليه، فقسم الغنائم فوقعت صفية في سهم دحية الكلبي، فقيل لرسول اللَّه ﷺ: إنه قد وقعت جارية جميلة في سهم دحية الكلبي، فاشتراها رسول اللَّه ﷺ بسبعة أرؤس، فبعث بها إلى أم سليم تصلحها، قال: ولا أعلم (إلا) (٥) أنه قال: (وتعتد) (٦) عندها، فلما أراد الشخوص قال الناس: ما ندري: اتخذها سُريّة أم تزوجها؟ فلما ركب سترها وأردفها خلفه، فأقبلوا حتى إذا دنوا من (المدينة) (٧) (أوضعوا) (٨)، وكذلك كانوا يصنعون إذا رجعوا، فدنوا من المدينة، فعثرت ناقة رسول اللَّه ﷺ فسقط وسقطت، ونساء النبي ﷺ ينظرن مشرفات، فقلن: أبعد اللَّه اليهودية وأسحقها، ⦗١٤⦘ فسترها وحملها (٩).حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کسی بستی پر) حملہ نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ صبح ہوجائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سماعت کرلیں۔ پس اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذان کی آواز سنائی دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک جاتے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذان کی آواز نہ سنتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بستی پر) حملہ آور ہوجاتے۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جب) خیبر کے علاقہ میں تشریف لائے تو (اس وقت) وہ لوگ اپنے قلعوں سے باہر نکل چکے تھے اور اپنی زمینوں میں پھیل گئے تھے ۔ اور ان کے ہمراہ زنبیل، کلہاڑیاں اور پھاؤڑے وغیرہ تھے۔ پس جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو بولے۔ محمد اور لشکر ! ! ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ اکبر۔ خیبر برباد ہوگیا۔ جب ہم کسی قوم کے علاقہ میں پڑاؤ ڈال دیتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے (آگاہ کردہ) لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ لڑائی کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح عطا فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غنائم کو تقسیم فرمایا۔ صفیہ، حضرت دحیہ کلبی کے حصے میں آئیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا۔ کہ حضرت دحیہ کلبی کے حصہ میں ایک خوبصورت لونڈی آئی ہے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سات غلاموں کے عوض خرید لیا اور انہیں حضرت ام سلیم کی طرف بھیج دیا تاکہ وہ انہیں درست کریں ۔ راوی کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ یہ ان کے پاس عدت گزاریں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (وہاں سے) روانگی کا قصد فرمایا۔ تو لوگ کہنے لگے۔ نامعلوم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفیہ کو بطور قیدی کے پکڑا یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے شادی کی ہے ؟ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفیہ کو باپردہ کر کے انہیں اپنے پیچھے سوار کیا۔ پھر لوگ چل پڑے یہاں تک کہ جب مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے جانوروں کو تیز دوڑایا … لوگوں کی عادت یہی تھی کہ جب وہ (سفر سے) واپسی کرتے اور مدینہ کے قریب پہنچتے تو یونہی کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کو ٹھوکر لگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گرپڑے اور صفیہ بھی گرگئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں منتظر ہو کر دیکھ رہی تھیں۔ تو انہوں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ یہودیہ (صفیہ) کو دور کرے اور برباد کرے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفیہ کو باپردہ کیا اور ان کو (اونٹنی پر) سوار کیا۔