حدیث نمبر: 39644
٣٩٦٤٤ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: حدثنا عكرمة بن عمار قال: حدثني إياس بن سلمة قال: أخبرني أبي قال: بارز عمي يوم خيبر مرحبا اليهودي (١) (فقال مرحب) (٢): قد علمت خيبر أني مرحب … شاكي السلاح بطل مجرب (إذا الحروب) (٣) أقبلت تلهب فقال: عمي عامر: قد علمت خيبر أني عامر … شاكي السلاح بطل مغامر فاختلفا ضربتين فوقع سيف مرحب في ترس عامر فرجع السيف على ساقه فقطع أكحله، فكانت فيها نفسه. قال سلمة: فلقيت من صحابة النبي ﷺ فقالوا: بطل عمل عامر، قتل نفسه، قال سلمة: فجئت إلى نبي اللَّه ﷺ (أبكي) (٤) قلت: يا رسول اللَّه بطل عمل عامر، قال: "من قال ذلك؟ " قلت: أناس من أصحابك، قال رسول اللَّه ﷺ: ⦗١١⦘ "كذب من قال ذلك، بل له أجره مرتين". حين خرج إلى خيبر جعل يرجز بأصحاب (رسول اللَّه) (٥) ﷺ، وفيهم النبي ﵊، (يسوق) (٦) (الركاب) (٧) وهو يقول: تاللَّه لولا اللَّه ما اهتدينا … ولا تصدقنا و (لا) (٨) صلينا إن الذين قد بغوا علينا … إذا أرادوا فتنة أبينا ونحن عن فضلك ما استغنينا … فثبت الأقدام إن لاقينا (وأنزلن) (٩) سكينة علينا فقال رسول اللَّه ﷺ: "من هذا؟ " قال: عامر (يا رسول اللَّه) (١٠)، قال: "غفر لك ربك"، قال: "وما استغفر لإنسان قط يخصّه إلا استشهد"، فلما سمع ذلك عمر بن الخطاب قال: يا رسول اللَّه، لولا ما متعتنا بعامر فقام فاستشهد. قال سلمة: ثم إن رسول اللَّه ﷺ أرسلني إلى (علي) (١١) فقال: "لأعطين الراية اليوم رجلًا يحب اللَّه ورسوله، أو يحبه اللَّه ورسوله"، قال: فجئت به (أقوده) (١٢) (١٣) أرمد قال: فبصق رسول اللَّه ﷺ في (عينيه) (١٤) ثم أعطاه الراية. ⦗١٢⦘ فخرج مرحب (يخطر) (١٥) بسيفه فقال: قد علمت خيبر أني مرحب … شاكي السلاح بطل مجرب إذا الحروب أقبلت تلهب فقال: علي بن أبي طالب ﵁: أنا الذي سمتني أمي حيدرة … (كليث) (١٦) (غابات) (١٧) (كريه) (١٨) المنظرة أو فيهم بالصاع كيل السندرة ففلق رأس مرحب بالسيف، وكان الفتح على يديه ﵀ (١٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ایاس بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبر دی کہ میرے چچا نے خیبر کے دن مرحب یہودی سے مبارزت کی تو مرحب نے کہا۔ ع ترجمہ : ” خیبر (کا خطہ) جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں۔ اسلحہ سے لیس ایک مجرب بہادر ہوں۔ جب جنگیں آتیں ہیں تو وہ شعلہ وار ہوجاتا ہے۔ “ اس پر میرے چچا نے یہ شعر کہا۔ ع ترجمہ : ” تحقیق خیبر (کا خطہ) مجھے جانتا ہے کہ میں عام ہوں۔ اسلحہ سے لیس اور جان پر کھیلنے والا سپوت ہوں۔ “ پس دونوں (کی) ضربیں ایک دوسرے پر شروع ہوگئیں۔ اور مرحب کی تلوار حضرت عامر کی ڈھال میں آپڑی۔ (جس کی وجہ سے) حضرت عامر کی تلوار ان کی پنڈلی پر آ لگی اور اس نے ان کی رگ کو کاٹ دیا۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں ۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ سے ملا تو انہوں نے کہا : عامر کے اعمال ضائع ہوگئے۔ انہوں نے خود کو قتل کیا ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں روتا ہوا حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا عامر کے اعمال ضائع ہوگئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کس نے یہ بات کہی ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں نے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے یہ بات کہی ہے جھوٹ کہی ہے۔ بلکہ اس کے لئے تو دوہرا اجر ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت عامر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو رجز کہہ رہے تھے۔ اور انہیں صحابہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی موجود تھے۔ حضرت عامر رکاب کو ہانک رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ ع ۔ بخدا ! اگر خدا نے ہمیں ہدایت نہ دی ہوتی ۔ تو ہم صدقہ بھی نہ کرتے اور نمازیں بھی نہ پڑھتے۔ بیشک وہ لوگ جنہوں نے ہم پر سرکشی کی۔ جب وہ کسی فتنہ کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کردیتے ہیں۔ ہم تیرے فضل سے مستغنی نہیں ہوسکتے پس اگر ہماری (دشمن سے) ملاقات ہوجائے تو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ اور ہم پر سکینہ نازل فرما۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ۔ یہ کون ہے ؟ کسی نے عرض کیا۔ عامر ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا پروردگار تمہاری مغفرت فرمائے۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس آدمی کے لئے بھی خصوصیت کے ساتھ استغفار کیا وہ آدمی شہید ہی ہوا۔ پس جب یہ بات حضرت عمر بن خطاب نے سُنی تو انہوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے ہمیں حضرت عامر سے مزید کیوں مستفید نہ ہونے دیا۔ پھر حضرت عامر (میدان جنگ میں مبارزت کے جواب میں) کھڑے ہوئے اور شہید ہوگئے۔ ٦۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا اور فرمایا : آج کے دن میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے … یا فرمایا … جس سے اللہ اور اس کے رسول محبت کرتے ہیں۔ سلمہ کہتے ہیں : پس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس حال میں چلا کر لایا کہ ان کو آشوب چشم تھا ۔ راوی کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھ میں اپنا لعاب مبارک ڈالا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔ مرحب اپنی تلوار کو اوپر نیچے ہلاتا ہوا باہر نکلا اور کہہ رہا تھا۔ تحقیق خربا (کے لوگ) مجھے جانتے ہیں کہ میں مرجر ہوں، اسلحہ سے لیس تجربہ کار سپوت ہوں۔ جب جنگیں آگے بڑھتی ہیں تو میں شعلہ وار ہوجاتا ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا : ع ” میں وہ شخص ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر (شیر) رکھا ہے۔ جنگل کے شیر کی طرح نہایت مہیب ہوں اور میں دشمنوں کے پیمانہ کے ساتھ پورا ناپ کردیتا ہوں۔ “ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مرحب کے سر کو (دو حصوں میں) تلوار سے پھاڑ دیا۔ اور یہ فتح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے حاصل ہوئی۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ق]: زيادة (سحرًا).
(٢) في [أ، ب]: (قال: مرحبًا اليهودي).
(٣) في [أ، ب]: (إنا بحروب).
(٤) في [ب]: (أيكنى).
(٥) في [ع]: (النبي).
(٦) في [س]: (سيوف).
(٧) في [ق، هـ]: (الركب).
(٨) سقط من: [س].
(٩) في [أ، ب]: (وأنزل).
(١٠) سقط من: [س].
(١١) في [أ، ب، ق]: زيادة ﵁.
(١٢) في [ع]: (أقود).
(١٣) في [ق]: زيادة (وهو).
(١٤) في [س]: (عينه).
(١٥) في [س]: (يخطي).
(١٦) في [جـ]: (كليب).
(١٧) في [س]: (غايات).
(١٨) في [أ، ب]: (كره).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39644
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤١٩٦، ٤٢٠٩)، ومسلم (١٨٠٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39644، ترقيم محمد عوامة 38029)