مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما (ذكر) في نجد، وما (نفل) منها باب: نجد کے بارے میں جو ذکر ہوا اور اس کے بارے میں جو نقل ہوا
٣٩٦٤١ - حدثنا عبدة بن سليمان عن محمد بن عمرو قال: تذاكر أبو سلمة ويحيى بن عبد الرحمن وعبد الملك بن المغيرة -وأنا معهم- (الأنفال) (١) فأرسلوا إلى سعيد بن المسيب يسألونه عن ذلك، فجاء الرسول فقال: أبي أن يخبرني شيئًا، قال: فأرسل سعيد غلامه (فقال) (٢): إن سعيدا يقول لكم: إنكم أرسلتم تسألونني عن الأنفال، وإنه لا نفل بعد رسول اللَّه ﷺ.حضرت محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ ابو سلمہ، یحییٰ بن عبد الرحمان اور عبد الملک بن مغیرہ… اور میں بھی ان کے ہمراہ تھا… آپس میں انفال … عطایا … کے بارے میں مذاکرہ کر رہے تھے ۔ تو انہوں نے سعید بن مسیب کی طرف یہ بات پوچھنے کے لئے بھیجا۔ تو (ان کا) قاصد واپس آیا اور اس نے کہا کہ سعید نے مجھے کچھ بھی بتانے سے انکار کردیا ہے … راوی کہتے ہیں : پھر سعید نے اپنا غلام بھیجا اور اس نے (آکر) کہا۔ سعید، تمہیں کہہ رہے ہیں۔ کہ تم نے میرے پاس انفال … عطایا… کے بارے میں پوچھنے کے لئے قاصد بھیجا تھا۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد انفال … عطایا… نہیں ہیں۔