حدیث نمبر: 39635
٣٩٦٣٥ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق (عن نافع) (٢) عن ابن عمر قال: بعثنا رسول اللَّه ﷺ في سرية إلى نجد قال: فأصبنا نعما كثيرة، قال: (فنفلنا) (٣) صاحبُنا الذي كان علينا بعيرًا بعيرًا، ثم قدمنا على رسول اللَّه ﷺ بما أصبنا، فكانت (سهماننا) (٤) بعد الخمس (اثني عشر بعيرًا (٥)، اثني عشر بعيرًا، فكان لكل رجل منا ثلاثة عشر بعيرًا، بالبعير الذي (نفلنا) (٦) صاحبنا، فما (عاب) (٧) رسول اللَّه ﷺ على صاحبنا ما حاسبنا (به) (٨) ⦗٧⦘ في سهماننا (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نجد کی طرف ایک سریہ میں روانہ کیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ ہمیں (وہاں سے) بہت زیادہ چیزیں غنیمت میں ملیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پس ہمیں ہمارے ساتھی نے جو ہم پر امیر تھا۔ ایک ایک اونٹ عطیہ میں دے دیا۔ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وہ اشیاء لے کر پہنچے۔ تو ہمیں پھر خمس کے اخراج کے بعد جو حصہ ملا وہ بارہ، بارہ اونٹ تھے۔ پس ہم میں سے ہر ایک آدمی کو اس اونٹ سمیت جو ہمارے ساتھی نے ہمیں عطیہ میں دیا تھا۔ تیرہ اونٹ ملے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے ساتھی سے اس اونٹ کے حساب پر کوئی بات نہیں کی۔

حواشی
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [ب]: (تنفلنا).
(٤) في [أ، ب]: (سهاماننا)، وفي [س]: (سهمًا).
(٥) سقط من: [أ، ب، ق].
(٦) في [أ، ب]: (انفلنا).
(٧) في [أ، ب]: (غاب).
(٨) سقط من: [ق].
(٩) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، والخبر ورد من طريق غيره، أخرجه البخاري (٤٣٣٨)، ومسلم (١٧٤٩)، وقد رواه أبو داود (٢٧٤٣)، والبيهقي ٦/ ٣١٢ من طريق ابن إسحاق لكن لم يصرح بالسماع عندهما.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39635
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39635، ترقيم محمد عوامة 38020)