حدیث نمبر: 39632
٣٩٦٣٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن جامع بن شداد قال: سمعت عبد الرحمن ابن أبي علقمة قال: سمعت عبد اللَّه بن مسعود قال: أقبلنا مع رسول اللَّه ﷺ من الحديبية، فذكروا أنهم نزلوا دهاسًا من الأرض -يعني بالدهاس: الرمل- قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "من يكلؤنا؟ "، قال: فقال بلال: أنا، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "إذن (ننام) (١) "، قال: فناموا حتى طلعت الشمس، فاستيقظ أناس فيهم ⦗٥٤٥⦘ فلان وفلان، وفيهم عمر، قال: فقلنا: (اهضبوا) (٢)، [يعني تكلموا، قال: فاستيقظ النبي ﷺ (فقال) (٣): "افعلوا كما كنتم (تفعلون) (٤)] (٥)، (قال) (٦): ففعلنا، قال: "كذلك فافعلوا (لمن) (٧) نام أو نسي"، قال: (وضلت) (٨) ناقة رسول اللَّه ﷺ فطلبتها، (قال) (٩): فوجدت حبلها (قد) (١٠) تعلق بشجرة، فجئت إلى (النبي) (١١) ﷺ فركب فسرنا، قال (١٢): وكان النبي ﷺ إذا نزل عليه الوحي اشتد ذلك عليه، وعرفنا ذلك فيه، قال: فتنحى منتبذا خلفنا، قال: فجعل يغطي رأسه بثوبه ويشتد ذلك عليه حتى عرفنا أنه قد أنزل عليه فأتونا فأخبرونا أنه قد أنزل عليه: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ [الفتح: ١] (١٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حدیبیہ سے (واپس) آئے۔ صحابہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ریتلی زمین پر اترے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہمیں کون بیدار کرے گا ؟ حضرت بلال نے عرض کیا۔ میں بیدار کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر تو ہم سوتے ہیں۔ تمام لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ تو کچھ لوگ … جن میں فلاں، فلاں اور حضرت عمر تھے … بیدار ہوگئے۔ ہم نے کہا (آپس میں) باتیں کرو۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بھی آنکھ مبارک کھل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم جس طرح کر رہے تھے ویسے ہی کرتے رہو (یعنی باتیں کرلو) ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے پھر وہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو کوئی سویا ہو یا اس کو نماز بھول گئی ہو تو تم اس کے ساتھ یہی کچھ کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی گم ہوگئی تو میں اس کی تلاش میں نکلا فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو اس حال میں پایا کہ اس کی رسی ایک درخت کے ساتھ اڑی ہوئی تھی۔ پس میں (اسے لے کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور ہم روانہ ہوگئے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کو اس حالت میں شدت ہوتی تھی۔ اور ہمیں یہ شدت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر محسوس ہوتی تھی۔ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پیچھے ایک طرف ہو کر کھڑے ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سر مبارک کو اپنے کپڑے سے ڈھانپ لیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سخت شدت کے آثار ظاہر ہوئے یہاں تک کہ ہم سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ے ہمیں بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ہے۔ {إِنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا }۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (ننم)، وفي [س، ي]: (تنام)، وفي [ع]: (نم).
(٢) في [ب]: (أهصنيوا)، وفي [س]: (انمصبوا).
(٣) في [ب]: (قال).
(٤) في [س]: (تعقلون).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [ي].
(٦) في [هـ]: (قالوا).
(٧) في [أ، ب]: (كمن).
(٨) في [س]: (دخلت).
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) في [أ، ب]: (قال).
(١١) في [هـ]: (رسول اللَّه).
(١٢) في [جـ، ي]: تكررت.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39632
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد الرحمن بن أبي علقمة صدوق، أخرجه أحمد (٤٤٢١)، وأبو داود (٤٤٧)، والنسائي في الكبرى (٨٨٥٣)، وابن حبان (١٥٨٠)، والبزار (٤٠٠/ كشف)، وأبو يعلى (٥٠١٠)، والطبراني (١٠٣٤٩)، والطيالسي (٣٧٧)، والشاشي (٨٣٩)، والطحاوي ١/ ٤٦٥، والبيهقي ٢/ ٢١٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39632، ترقيم محمد عوامة 38017)