٣٩٦٣٠ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: (أخبرنا) (١) موسى بن عبيدة عن عبد اللَّه بن عمرو بن أسلم عن ناجية بن جندب بن ناجية قال: لما (كنا) (٢) بالغميم لقي رسول اللَّه ﷺ (خبر) (٣) قريش: أنها بعثت خالد بن الوليد في (جريدة) (٤) خيل (تتلقى) (٥) رسول اللَّه ﷺ، (فكره رسول اللَّه ﷺ) (٦) أن يلقاه، وكان (بهم) (٧) رحيمًا، فقال: "مَنْ (رجلٌ) (٨) يعدلنا عن الطريق؟ " فقلت: أنا بأبي أنت وأمي يا رسول اللَّه (٩)، قال: فأخذت بهم في طريق (قد) (١٠) كان مهاجري بها فدافد وعقاب (١١)، فاستوت (بي) (١٢) الأرض حتى أنزلته على الحديبية وهي نزح، قال: فألقى فيها ⦗٥٤٤⦘ سهما أو سهمين من كنانته ثم بصق فيها ثم دعا، (قال) (١٣): فعادت عيونها حتى أني لأقول -أو نقول: لو شئنا (لاغترفنا) (١٤) (بأقداحنا) (١٥) (١٦).حضرت ناجیہ بن جندب بن ناجیہ روایت کرتے ہیں کہ جب ہم مقام غمیم میں (پہنچے) تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قریش کی اطلاع ملی کہ انہوں نے خالد بن ولید کو گھڑ سواروں کے ایک دستہ کے ہمراہ روانہ کیا ہے۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرنے والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ آپ ان سے ملاقات کریں۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر بہت رحم کھاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کون آدمی ہے جو ہمیں اس راستہ سے ہٹا دے ؟ (یعنی دوسرے راستہ پر لے جائے) میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ میں لے جاؤں گا۔ فرماتے ہیں : پس میں نے انہیں ایک ایسے کٹھن راستہ پر ڈال دیا۔ جس میں گھاٹیاں اور اتار چڑھاؤ تھا۔ پھر جب ہموار زمین آئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقام حدیبیہ میں پڑاؤ کروایا اور اس جگہ کا پانی ختم تھا۔ ناجیہ فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کنویں میں اپنے ترکش سے ایک یا دو ترا ڈالے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں اپنا لعاب مبارک ڈالاپھر دعا فرمائی۔ راوی کہتے ہیں : پس اس کے چشمے لوٹ آئے یہاں تک کہ میں نے …یا ہم لوگوں نے … کہا اگر ہم چاہیں تو اپنے پیالے (برتن) سے پانی بھر لیں۔