٣٩٦٢٠ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن موسى بن عبيدة عن إياس (بن سلمة) (١) عن أبيه قال: بعثت قريش سهيل بن عمرو وحويطب بن عبد العزى و (٢) حفص إلى النبي ﷺ ليصالحوه، فلما رآهم رسول اللَّه ﷺ فيهم سهيل، قال: "قد سهل من أمركم، القوم يأتون إليكم (بأرحامهم) (٣)، (وسائلوكم) (٤) الصلح فابعثوا الهدي، وأظهروا بالتلبية، (لعل ذلك يلين قلوبهم"، فلبوا من نواحي العسكر حتى ارتجت أصواتهم بالتلبية) (٥) [قال: فجاؤه فسألوا الصلح. ⦗٥٢٨⦘ قال: فبينما الناس قد توادعوا، وفي المسلمين ناس من المشركين، وفي المشركين ناس من المسلمين] (٦) (ففتك) (٧) أبو سفيان فإذا الوادي يسيل بالرجال والسلاح. قال: قال: (إياس) (٨): قال (سلمة) (٩): (فجئت) (١٠) (بستة) (١١) من المشركين مسلحين أسوقهم، ما يملكون لأنفسهم نفعًا ولا ضرًا، فأتينا بهم النبي ﷺ فلم يسلب ولم يقتل وعفا، قال: فشددنا على ما في أيدي المشركين منا، فما تركنا فيهم رجلا منا إلا استنقذناه، قال: وغلِبنا على من في أيدينا منهم. ثم إن قريشا أتت سهيل بن عمرو (وحويطب) (١٢) بن عبد العزى فولوا صلحهم، وبعث النبي ﷺ عليا وطلحة، فكتب علي بينهم: "بسم اللَّه الرحمن الرحيم هذا ما صالح عليه محمد رسول اللَّه (١٣) قريشا: صالحهم على أنه: لا إغلال ولا إسلال، (و) (١٤) على أنه: (من) (١٥) قدم مكة [من أصحاب محمد (١٦) حاجًّا أو ⦗٥٢٩⦘ معتمرًا أو يبتغي من فضل اللَّه فهو آمن (على) (١٧) دمه وماله، [ومن قدم المدينة من قريش مجتازًا إلى مصر (أو) (١٨) إلى الشام يبتغي من فضل اللَّه فهو آمن على دمه وماله] (١٩) وعلى أنه من جاء محمدًا (٢٠) من قريش فهو رد، ومن جاءهم] (٢١) من أصحاب محمد (٢٢) [فهو لهم. فاشتد ذلك على المسلمين فقال رسول اللَّه ﷺ] (٢٣): "من جاءهم منا فأبعده اللَّه، ومن جاءنا منهم (رددناه) (٢٤) إليهم -يعلم اللَّه الإسلام من نفسه- يجعل اللَّه (له) (٢٥) مخرجا". وصالحوه على (أنه) (٢٦) يعتمر عامًا قابلًا في مثل هذا الشهر، لا يدخل علينا بخيل ولا سلاح إلا ما يحمل المسافر في قرابه، فيمكث فيها ثلاث ليال، وعلى أن هذا الهدي حيث حبسناه فهو محله لا يُقدِمه علينا، فقال رسول اللَّه ﷺ: "نحن نسوقه وأنتم تردون وجهه" (٢٧).حضرت ایاس بن سلمہ ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قریش نے سہیل بن عمرو، حویطب ابن عبد العزی اور مکرز بن حفص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صلح کریں۔ پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سہیل کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا معاملہ آسان ہوگیا ہے۔ لوگ تمہارے پاس اپنے رشتوں کے ہمراہ آ رہے ہیں۔ اور تم سے صلح کا سوال کر رہے ہیں۔ پس ہدی کے جانوروں کو کھڑا کردو اور تلبیہ کو ظاہر کرو۔ شاید کہ یہ ان کے دلوں کو نرم کر دے۔ صحابہ کرام نے لشکر کے اطراف سے تلبیہ بلند کیا یہاں تک کہ ان کے تلبیہ میں ان کی آوازوں سے گونج پیدا ہوگئی ۔ راوی کہتے ہیں : پس مشرکین آئے اور انہوں نے صلح کی بات کی۔ ٢۔ راوی کہتے ہیں : اس دوران جبکہ یہ لوگ باہم۔ مسلمانوں کے لشکر میں مشرکین اور مشرکین کے لشکر میں مسلمان موجود تھے۔ کہا گیا : ابو سفیان ! ! ! اچانک وادی لوگوں اور اسلحہ سے بہنے لگی۔ راوی کہتے ہیں : ایاس بیان کرتے ہیں کہ سلمہ نے کہا۔ میں نے مشرکین میں سے چھ مسلح افراد کو ہانک لیا درآنحالیکہ وہ اپنے لئے کسی نفع اور نقصان کے مالک نہیں تھے ۔ ہم انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قتل کیا اور نہ مال چھینا بلکہ معاف فرما دیا۔ راوی کہتے ہیں : پھر مشرکین کے قبضہ میں ہمارے جو ساتھی تھے ہم نے ان کے بارے میں سختی کی اور مشرکین کے قبضہ میں ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑا بلکہ چھڑا لیا۔ راوی کہتے ہیں : ہمارے قبضہ میں جو ان کے افراد تھے ہم ان پر غالب رہے۔ ٣۔ پھر قریش، سہیل بن عمرو اور حویطب بن عبد العزی کے پاس گئے اور انہیں اپنی صلح کا متولی بنایا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ کو بھیجا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان فیصلہ تحریر کیا۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ۔ یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد رسول اللہ نے قریش سے صلح کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اس بات پر صلح کی ہے کہ نہ تو دھوکہ دہی ہوگی اور نہ ہی شرائط کی خلاف ورزی اور یہ بھی شرط ہے کہ اصحابِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے جو آدمی حج وعمرہ کرنے یا اللہ کی رضا کے لئے مکہ مکرمہ آئے گا تو اس کے خون اور مال کو امن ہوگا۔ اور قریش میں سے جو شخص مدینہ میں مصر یا شام کی طرف جانے کے لئے آئے اور اللہ کے فضل کا متلاشی ہو تو اس کا مال اور خون بھی مامون ہوگا۔ اور یہ شرط بھی تھی کہ قریش میں سے جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے گا تو واپس کیا جائے گا اور جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے قریش کی طرف آئے گا تو وہ انہی کے پاس ہوگا۔ ٤۔ یہ بات اہل اسلام پر بہت شاق گزری۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ان میں سے ہماری طرف آئے گا تو ہم اس کو ان کی طرف واپس کردیں گے (حالانکہ) اللہ تعالیٰ اس کے دل سے اسلام کو جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے لئے راہ بنا دے گا۔ ٥۔ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات پر صلح کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئندہ سال انہی مہینوں میں عمرہ کریں گے (لیکن) ہمارے پاس گھوڑے اور اسلحہ لے کر نہیں آئیں گے سوائے اس مقدار کے جو ایک مسافر اپنے تھیلے میں رکھتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آئندہ سال) مکہ میں تین دن قیام کریں گے۔ اور یہ شرط بھی تھی کہ اس ہدی کو جہاں پر ہم نے روکا ہے وہیں پر اس کو حلال کریں۔ ان کو مزید آگے نہیں ہانکیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ہم تو اس کو ہانکیں گے اور تم اس کو واپس موڑدینا۔