حدیث نمبر: 39618
٣٩٦١٨ - حدثنا عفان قال: حمَّاد بن سلمة عن ثابت عن أنس أن قريشًا صالحوا النبي ﷺ فيهم سهيل بن عمرو، فقال النبي ﷺ لعلي: "اكتب: بسم اللَّه الرحمن الرحيم"، فقال سهيل: أما "بسم اللَّه الرحمن الرحيم"، (فما ندري) (١) ما "بسم اللَّه الرحمن الرحيم"، ولكن (اكتب) (٢) بما نعرف "باسمك اللهم" فقال: "اكتب: من محمد رسول اللَّه (٣) "، قالوا: لو علمنا أنك رسول اللَّه اتبعناك، ولكن اكتب اسمك واسم أبيك، فقال النبي ﷺ: "اكتب: من محمد بن عبد اللَّه"، فاشترطوا على النبي ﷺ أن من جاء منكم لم نرده عليكم، ومن جاءكم (منا) (٤) رددتموه علينا، فقالوا: يا رسول اللَّه أتكتب هذا؟ قال: "نعم، إنه من ذهب منا إليهم فأبعده ⦗٥٢٧⦘ اللَّه، ومن جاءنا منهم سيجعل اللَّه (له) (٥) فرجًا ومخرجًا" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس سے روایت ہے کہ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مصالحت کی جبکہ ان (مصالحت کرنے والوں) میں سہیل بن عمر و بھی تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : لکھو ! بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ سہیل نے کہا یہ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ہم نہیں جانتے۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ کیا ہے۔ ہاں وہ بات لکھو جس کو ہم جانتے ہیں ۔ بِاسْمِکَ اللّٰھُمَّ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لکھو ! محمد رسول اللہ کی طرف سے۔ وہ کہنے لگے۔ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول مانتے تو ہم آپ کی اتباع ہی کرلیتے۔ ہاں اپنا اور اپنے والد کا نام لکھو۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ لکھو ! محمد بن عبد اللہ کی طرف سے۔ پھر مشرکین قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ شرط لگائی کہ تم میں سے جو آدمی (ہمارے پاس) آئے گا ہم اس کو تمہیں واپس نہیں کریں گے۔ اور ہم میں سے جو آدمی تمہارے پاس آئے گا تو تم اس کو ہماری طرف واپس کرو گے۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا یہ بات بھی لکھی جائے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! جو آدمی ہم میں سے ان ی طرف جائے گا تو اللہ اس کو دور کر دے گا۔ اور جو ہمارے پاس ان میں سے آئے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے راہ اور مخرج پیدا کر دے گا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [جـ]: زيادة (س).
(٤) في [ع]: (منكم).
(٥) سقط من: [أ، ب]، وفي [س، ع، ي]: (لهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39618
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٨٤)، وأحمد (١٣٨٢٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39618، ترقيم محمد عوامة 38003)