حدیث نمبر: 39615
٣٩٦١٥ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا مُجمّع بن يعقوب قال: حدثني أبي عن عمه عبد الرحمن بن يزيد عن مجمع بن (جارية) (١) قال: شهدت الحديبية مع رسول اللَّه ﷺ، فلما انصرفنا عنها إذا الناس يوجفون الأباعر، فقال بعض الناس لبعض: ما للناس؟ فقالوا: أوحي إلى رسول اللَّه ﷺ، قال: فخرجنا نوجف مع الناس حتى وجدنا رسول اللَّه ﷺ (٢) واقفا عند كُرَاع الغميم، فلما اجتمع إليه بعض ما يريد من الناس قرأ عليهم: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ فقال رجل من أصحابه: يا رسول اللَّه أو فتح هو؟ قال: " (أي) (٣) والذي نفسي بيده، (إنه) (٤) لفتح"، قال: فقسمت على أهل الحديبية على ثمانية عشر سهما، وكان الجيش ألفا ⦗٥٢٥⦘ وخمسمائة ثلاثمائة فارس فكان للفارس سهمان (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مجمع بن جاریہ سے روایت ہے کہ میں، حدیبیہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ پس جب ہم حدیبیہ سے واپس پلٹے تو لوگوں نے اونٹوں کو تیز رفتار سے بھگانا شروع کیا۔ پھر بعض صحابہ نے بعض سے پوچھا۔ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر ہم بھی لوگوں کے ہمراہ سواریاں دوڑاتے ہوئے نکلے یہاں تک کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کراع غمیم نامی پہاڑ کے پاس کھڑے پایا۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ کے مطلوبہ افراد جمع ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ {إنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا } آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا یہ فتح ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہاں ! قسم اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔ بلاشبہ یہ فتح ہے۔ راوی کہتے ہیں : پس اہل حدیبیہ پر اٹھارہ حصوں میں یہ فتح تقسیم کی گئی ۔ لشکر کی تعداد پندرہ سو تھی۔ اور تین سو (ان میں) گھڑ سوار تھے ۔ اور گھڑ سوار کو دو حصے ملے تھے۔

حواشی
(١) في [ع، ي]: (حارثة).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) سقط من: [أ، ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39615
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ فيه بعض المخالفة، يعقوب صدوق، أخرجه أحمد (١٥٤٧٠)، وأبو داود (٢٧٣٦)، والحاكم ٢/ ١٣١، والبيهقي ٦/ ٣٢٥، والدارقطني ٤/ ١٠٥، والطبري في التفسير (سورة الفتح) ٢٦/ ٧١، والطبراني ١٩/ (١٠٨٢)، والمزي ٣٢/ ٢٦٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39615، ترقيم محمد عوامة 38000)