٣٩٦١٤ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال: قدم رسول اللَّه ﷺ وأصحابه في الهدنة التي كانت قبل الصلح الذي كان بينه وبينهم، قال: والمشركون عند باب الندوة مما يلي الحِجْر، وقد تحدثوا أن برسول اللَّه ﷺ وأصحابه جهدا وهزلا، فلما استلموا، [قال: قال لهم رسول اللَّه ⦗٥٢٤⦘ ﷺ: ("إنهم قد تحدثوا أن بكم (جهدا وهُزلا)) (١) (٢)] (٣) (فارملوا) (٤) ثلاثة أشواط حتى يروا أن بكم قوة"، قال: فلما استلموا الحجر رفعوا أرجلهم فرملوا، حتى قال بعضهم لبعض: أليس زعمتم أن بهم (هزلا) (٥)، وهم لا يرضون بالمشي حتى يسعوا سعيا (٦).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ، مشرکین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان ہونے والی صلح کے بعد تشریف لائے۔ راوی کہتے ہیں : مشرکین حجر اسود سے متصل باب الندوۃ کے پاس موجود تھے اور باہم یہ گفتگو کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو کمزوری اور لاغری لاحق ہوگئی ہے۔ تو جب صحابہ نے استلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا : یہ لوگ باہم یہ گفتگو کر رہے ہیں کہ تمہیں کمزوری اور لاغری لاحق ہوچکی ہے۔ پس تم تین چکروں میں رمل کرو۔ تاکہ وہ دیکھ لیں کہ تم قوی ہو۔ راوی کہتے ہں ت : جب صحابہ نے استلام کیا تو قدم اٹھاتے ہی انہوں نے رمل شروع کردیا۔ اس پر مشرکین میں سے بعض نے بعض سے کہا۔ تمہارا تو خیال یہ نہیں تھا کہ انہیں کمزوری اور لاغری لاحق ہوچکی ہے۔ جبکہ یہ لوگ تو خالی چلنے پر راضی نہیں ہیں جب تک کہ دوڑ نہ لیں۔