حدیث نمبر: 39613
٣٩٦١٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن عطاء قال: خرج النبي ﷺ معتمرا (في ذي القعدة معه المهاجرين والأنصار) (١) حتى أتى الحديبية، (فخرجت) (٢) إليه قريش فردوه عن البيت، حتى كان بينهم كلام (وتنازع) (٣) حتى كاد يكون بينهم قتال، قال: فبايع النبي ﷺ أصحابَه (وعدُتهم) (٤) ألف (و) (٥) خمسمائة تحت الشجرة، وذلك يوم بيعة الرضوان، فقاضاهم النبي ﷺ فقالت قريش: نقاضيك على أن تنحر الهدي مكانه وتحلق وترجع، حتى إذا كان (العام المقبل) (٦) (نخلي) (٧) لك مكة ثلاثة أيام، ففعل، قال: (فخرجوا) (٨) إلى عكاظ فأقاموا فيها ثلاثًا، واشترطوا عليه أن لا (يدخلها) (٩) بسلاح إلا بالسيف، ولا (تخرج) (١٠) بأحد من أهل مكة إن خرج معك، فنحر الهدي مكانه وحلق ⦗٥٢٣⦘ ورجع، حتى إذا كان في قابل (في) (١١) تلك الأيام (دخل) (١٢) مكة، وجاء بالبدن معه، وجاء الناس معه، فدخل المسجد الحرام، فأنزل اللَّه عليه: ﴿لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ﴾ [الفتح: ٢٧]، قال: وأنزل عليه: ﴿الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ﴾ [البقرة: ١٩٤]، فإن قاتلوكم في المسجد الحرام فقاتلوهم، فأحل (١٣) لهم إن (قاتلوه) (١٤) في (المسجد الحرام أن يقاتُلوهم) (١٥)، فأتاه أبو جندل بن سهيل بن عمرو، وكان (موثقا) (١٦) (أوثقه) (١٧) أبوه، (فرده) (١٨) إلى أبيه (١٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عطاء سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالقعدہ میں عمرہ کرنے کے لئے نکلے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مہاجرین و انصار کی ایک جماعت بھی تھی۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر میں پہنچے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قریش کے لوگ آگئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ سے واپس کردیں اس دوران ان کے درمیان سخت گفتگو اور نزاع کھڑا ہوگیا۔ قریب تھا کہ یہ لوگ باہم لڑ پڑتے۔ راوی کہتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے ایک درخت کے نیچے بیعت لی۔ صحابہ کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی۔ یہی بیعت رضوان کا دن کہلاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کے ساتھ مصالحت فرمائی۔ قریش نے کہا۔ ہم آپ کے ساتھ اس شرط پر صلح کرتے ہیں کہ آپ ہدی کے جانور یہیں ذبح کردیں اور حلق کر کے لوٹ جائیں۔ اور جب آئندہ سال آئے گا تو ہم آپ کو تین دن تک مکہ میں رہنے کی اجازت دیں گے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات مان لی ۔ راوی کہتے ہیں : پھر لوگ عکاظ کی طرف نکل گئے اور انہوں نے وہاں پر تین دن قیام کیا۔ مشرکین نے یہ بھی شرط رکھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں تلوار کے علاوہ کوئی اسلحہ لے کر داخل نہیں ہوں گے۔ اور اہل مکہ میں سے اگر کوئی آپ کے ساتھ جانا چاہے گا تو آپ اسے لے کر نہیں جائیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہدی کے جانور کو اسی جگہ نحر کردیا اور حلق کروا کر واپس تشریف لے آئے۔ جب آئندہ سال کے یہی ایام آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہمراہ کئی اونٹ لے کر تشریف لائے اور بہت سے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ پس یہ لوگ مسجد حرام میں داخل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ کلمات نازل فرمائے۔ { لَقَدْ صَدَقَ اللَّہُ رَسُولَہُ الرُّؤْیَا بِالْحَقِّ ، لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَائَ اللَّہُ آمِنِینَ } راوی کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل فرمائی۔ { الشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ ، فَمَنِ اعْتَدَی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَی عَلَیْکُمْ } یعنی اگر وہ تم سے مسجد حرام میں لڑیں تو تم بھی ان سے لڑو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے یہ بات حلال کردی ہے کہ اگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسجد حرام مں ت لڑیں تو آپ بھی مسجد حرام میں ان سے لڑیں۔ ابو جندل بن سہیل بن عمرو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے جبکہ وہ بندھے ہوئے تھے اور انہیں ان کے والد نے باندھا تھا ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ان کے والد کی طرف رد کردیا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٢) في [أ، ب]: (وخرجت).
(٣) في [أ، ب]: (وتنازعوا).
(٤) في [أ، ب]: (وعددهم).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [أ، ب]: (في قابل).
(٧) في [أ، ب]: (تجلى).
(٨) في [أ، ب]: (وخرجوا).
(٩) في [أ، ب]: (يدخولها).
(١٠) في [أ، ب]: (يخرج).
(١١) سقط من: [هـ].
(١٢) في [أ]: (خل).
(١٣) في [ع]: زيادة (اللَّه).
(١٤) في [أ، ب]: (قاتلوا).
(١٥) في [أ، ب]: (في المسجد أن يقاتلهم).
(١٦) في [أ، ب]: (موثقه)، وفي [ع]: (موثوقًا).
(١٧) سقط من: [أ، ب].
(١٨) في [أ، ب]: (ورده).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39613
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ عطاء تابعي، وأشعث ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39613، ترقيم محمد عوامة 37998)