حدیث نمبر: 39612
٣٩٦١٢ - حدثنا (أبو) (١) أسامة عن زكريا عن أبي إسحاق عن البراء قال: نزلنا يوم الحديبية فوجدنا ماءها قد شربه أوائل الناس، فجلس النبي ﷺ على البئر، ثم ⦗٥٢٢⦘ دعا بدلو منها، فأخذ منه بفية ثم مجه فيها ودعا اللَّه، (فكثر) (٢) ماؤها حتى تروى الناس منها (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ ہم نے (جب) حدیبیہ کے دن پڑاؤ کیا تو ہم نے اس کے کنویں کو اس حال میں پایا کہ (ہم سے) پہلے والے لوگ اس سے پی چکے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کنویں کے منڈیر پر تشریف فرما ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے ایک ڈول منگوایا اور اس میں سے اپنے منہ مبارک میں پانی لیا اور پھر اس پانی کو دوبارہ ڈول میں کلی کردیا اور اللہ سے دعا کی۔ تو اس کنویں کا پانی اتنا زیادہ ہوگیا کہ سارے لوگ اس سے سیراب ہوگئے۔
حواشی
(١) في [أ]: (أبي).
(٢) في [ب]: (وكثر).