حدیث نمبر: 39611
٣٩٦١١ - حدثنا أبو أسامة عن زكريا عن أبي إسحاق عن البراء قال: لما (أحصر) (١) رسول اللَّه ﷺ عن البيت صالحه أهل مكة على أن يدخلها فيقيم بها ثلاثًا ولا يدخلها إلا بجلُبَّان السلاح: (السيف) (٢) وقرابه، ولا يخرج معه (أحد) (٣) من أهلها، ولا يمنع أحدا أن يمكث بها ممن كان معه، فقال لعلي: "اكتب الشرط بيننا بسم اللَّه الرحمن الرحيم هذا ما (قاضى) (٤) عليه محمد رسول اللَّه ﷺ، فقال المشركون (٥): لو نعلم أنك رسول اللَّه تابعناك، ولكن اكتب محمد بن عبد اللَّه قال: فأمر عليا أن (يمحوها) (٦)، فقال علي: لا واللَّه لا (أمحوها) (٧)، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أرني مكانها"، فأراه مكانها فمحاها، وكتب: ابن عبد اللَّه، فأقام فيها ثلاثة أيام، فلما كان يوم الثالث قالوا لعلي: هذا آخر يوم من شرط صاحبك، فمره فليخرج، فحدثه بذلك، (فقال: "نعم") (٨)، فخرج (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت براء سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ سے روک دیا گیا (تو اس وقت) اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات پر مصالحت کرلی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آئندہ سال) مکہ میں داخل ہوں گے اور وہاں پر تین دن قیام کریں گے اور مکہ میں صرف اسلحہ کے تھیلے کو ، جس میں تلوار اور زرہ ہوگی … لے کر آئیں گے اور اہل مکہ میں سے کسی کو لے کر نہیں جائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جو لوگ ہوں گے ان میں سے کسی کو یہاں ٹھہرنے سے آپ منع نہیں کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” ہمارے درمیان معاہدہ تحریر کرو۔ بسم اللّٰہ الرحمان الرحیم۔ یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلح کی ہے۔ “ مشرکین کہنے لگے۔ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول ، مانتے تو ہم آپ کے متبع بن جاتے لیکن (چونکہ ہم نہیں مانتے لہٰذا) آپ یوں لکھیں۔ محمد بن عبد اللہ۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ پہلی والی عبارت مٹا دو ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے۔ نہیں ! خدا کی قسم ! میں اس کو نہیں مٹاؤں گا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے وہ جگہ دکھاؤ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ جگہ دکھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جملہ کو مٹا دیا۔ اور (اس کی جگہ) لکھا۔ ابن عبد اللہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اگلے سال) تین دن مکہ میں قیام فرمایا۔ جب تیسرا دن آیا تو مشرکین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا۔ یہ تمہارے ساتھی کی شرط کے مطابق آخری دن ہے پس تم ان سے کہو کہ وہ مکہ سے باہر چلے جائیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر نکل گئے۔

حواشی
(١) هكذا في [هـ]، وفي بقية النسخ: (حصر).
(٢) في [ب]: (والسين).
(٣) هكذا في [ق، هـ]، وفي بقية النسخ: (بأحد).
(٤) في [أ، ب]: (قضى)، وفي [ع]: (قاضا).
(٥) في [جـ، ي]: ﷺ.
(٦) في [ع]: (أمحاها - يمحاها)
(٧) في [ع]: (أمحاها - يمحاها).
(٨) في [أ، ب]: (قال له: نعم)، وسقط من: [س].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39611
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ صرح أبو إسحاق بالسماع عند الشيخين، أخرجه البخاري (٣١٨٤)، ومسلم (١٧٨٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39611، ترقيم محمد عوامة 37996)