٣٩٦١٠ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن عروة ابن الزبير عن مروان أن (رسول) (١) اللَّه ﷺ خرج عام صدوه، فلما انتهى إلى الحديبية اضطرب في الحل، وكان مصلاه في الحرم، فلما كتبوا القضية وفرغوا منها دخل (على) (٢) (الناس) (٣) من ذلك أمر عظيم قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "يا أيها الناس انحروا، وأحلقوا، وأحلوا"، فما قام رجل من الناس، ثم أعادها فما قام أحد من الناس، فدخل على أم سلمة فقال: "ما رأيتِ ما دخل على الناس"، فقالت: يا رسول اللَّه اذهب فانحر هديك واحلق (وأحل) (٤)، فإن الناس سيحلون فنحر رسول اللَّه ﷺ وحلق وأحل (٥).حضرت مروان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم … جس سال مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روکا… اس سال چلے پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیبیہ تک پہنچے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حِل میں ہی مجبوراً روک دیا گیا۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ حرم میں نماز کا تھا۔ پس جب لوگوں نے فیصلہ تحریر کردیا اور اس تحریر سے فارغ ہوگئے تو لوگ اس فیصلہ سے بہت دل برداشتہ ہوئے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! نحر کرو اور حلق کرواؤ اور حلال ہو جاؤ۔ کوئی آدمی بھی کھڑا نہ ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات دوبارہ ارشاد فرمائی۔ لیکن پھر کوئی آدمی نہ کھڑا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ام سلمہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : لوگوں کی جو حالت ہوچکی ہے اس میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ جا کر اپنی ہدی کو نحر کریں اور حلق کروا کر حلال ہوجائیں۔ لوگ بھی حلال ہوجائیں گے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نحر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلق کروا کر حلال ہوگئے۔