حدیث نمبر: 39609
٣٩٦٠٩ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام عن أبيه قال: خرج رسول اللَّه ﷺ إلى الحديبية -وكانت الحديبية في شوال- قال: فخرج رسول اللَّه ﷺ حتى إذا كان بعسفان لقيه رجل من بني كعب فقال: يا رسول اللَّه، إنا تركنا (قريشا) (١) وقد جمعت (لك) (٢) أحابيشَها تطعمها الخزير، [يريدون أن يصدوك عن البيت، فخرج رسول اللَّه ﷺ حتى إذا تبرز (من) (٣) عسفان لقيهم خالد بن الوليد طليعة لقريش، فاستقبلهم على الطريق فقال رسول اللَّه ﷺ: "هلم ههنا"، فأخذ بين سروعتين -يعني شجرتين- ومال عن سنن الطريق حتى نزل الغميم، فلما نزل الغميم خطب الناس فحمد اللَّه وأثنى عليه بما هو أهله، ثم قال: "أما بعد فإن قريشا قد جمعت لكم أحابيشها (تطعمها) (٤) الخزير] (٥) يريدون أن يصدونا عن البيت، فأشيروا علي بما ترون أن تعمدوا إلى الرأس، -يعني أهل مكة، أم ترون أن تعمدوا إلى الذين أعانوهم (فنخالفهم) (٦) إلى نسائهم وصبيانهم، فإن جلسوا جلسوا (موتورين) (٧) مهزومين، وإن طلبونا (طلبونا) (٨) (طلبا) (٩) (متداريا) (١٠) ضعيفا، (فأخزاهم) (١١) اللَّه"، ⦗٥١٥⦘ فقال: أبو بكر يا رسول اللَّه (١٢) أن (تعمد) (١٣) إلى الرأس (فإن) (١٤) اللَّه معينك، وإن اللَّه ناصرك، وإن اللَّه مظهرك، قال المقداد بن الأسود وهو في رحله: إنا (يا رسول اللَّه) (١٥) لا نقول لك كما قالت: بنو إسرائيل لنبيها: ﴿(اذْهَبْ) (١٦) أنت وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ﴾ [المائدة: ٢٤] ولكن اذهب أنت (وربك فقاتلا، إنا معكم مقاتلون، فخرج رسول اللَّه ﷺ حتى إذا غشي الحرم ودخل أنصابه بركت ناقته) (١٧) (الجدعاء) (١٨) فقالوا: خلأت، فقال: "واللَّه ما خلأت، وما الخلأ بعادتها، ولكن حبسها (١٩) حابس الفيل عن مكة، لا تدعوني قريش إلى تعظيم المحارم فيسبقوني إليه، هلم هاهنا" -لأصحابه فأخذ ذات اليمين في ثنية تدعى ذات الحنظل حتى هبط على الحديبية، فلما نزل استقى الناسُ من البئر، (فنزفت) (٢٠) ولم تقم بهم، فشكوا ذلك إليه فأعطاهم سهما من كنانته فقال: "اغرزوه في البئر"، فغرزوه في البئر فجاشت وطما ماؤها حتى ضرب الناس (بالعطن) (٢١)، فلما سمعت به قريش أرسلوا إليه أخا بني حليس وهو من قوم يعظمون الهدي، (فقال: "ابعثوا الهدي") (٢٢)، فلما رأى الهدي لم ⦗٥١٦⦘ يكلمهم كلمة، وانصرف من مكانه إلى قريش، فقال: (يا قوم) (٢٣) القلائد والبدن والهدي، فحذرهم وعظم عليهم، فسبوه وتجهموه وقالوا: إنما أنت أعرابي جلف لا نعجب منك، ولكنا نعجب من أنفسنا إذ أرسلناك، اجلس ثم قالوا لعروة بن مسعود: انطلق إلى محمد (٢٤) ولا نؤتين من ورائك، فخرج عروة حتى أتاه فقال: يا محمد، ما رأيت رجلا من العرب سار إلى مثل ما سرت (إليه) (٢٥) (سرت) (٢٦) (بأوباش) (٢٧) الناس (إلى) (٢٨) عترتك وبيضتك التي (تفلقت) (٢٩) عنك لتبيد (خضراءها) (٣٠)، تعلم أني جئتك من (٣١) كعب بن لؤي وعامر بن لؤي، قد لبسوا جلود النمور عند العوذ (المطافيل) (٣٢) يقسمون باللَّه: لا تعرض لهم خطبة إلا عرضوا لك (أمرّ) (٣٣) (منها) (٣٤)، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إنا لم نأت لقتال (ولكنا) (٣٥) أردنا أن نقضي عمرتنا وننحر هدينا، فهل لك أن تأتي قومك، فإنهم أهل قتب، وإن الحرب قد (أخافتهم) (٣٦)، وإنه لا خير لهم أن تأكل الحرب منهم إلا ما قد أكلت، ⦗٥١٧⦘ فيخلون بيني ويين البيت، فنقضي عمرتنا وننحر هدينا، ويجعلون بيني وبينهم مدة، (نزيل) (٣٧) فيها (٣٨) (نساءهم) (٣٩) ويأمن فيها سريهم، ويخلون بيني وبين الناس، فإني -واللَّه- لأقاتلن على هذا الأمر الأحمر والأسود حتى يظهرني اللَّه (٤٠) أو (تنفرد) (٤١) سالفتي، فإن أصابني الناس فذاك الذي (يريدون) (٤٢)، وإن أظهرني اللَّه عليهم اختاروا، إما قاتلوا معدين، وإما دخلوا في السلم وافرين"، قال: فرجع (عروة إلى قريش) (٤٣) فقال: تعلمن -واللَّه- ما على الأرض قوم أحب (إلي) (٤٤) (منكم) (٤٥)، إنكم لأخواني وأحب الناس إلي، ولقد استنصرت لكم الناس في المجامع، فلما لم (ينصروكم) (٤٦) (أتيتكم) (٤٧) بأهلي حتى نزلت (معكم) (٤٨) إرادة أن (أواسيكم) (٤٩)، واللَّه ما أحب الحياة بعدكم، تعلمن أن الرجل قد عرض (نصفا) (٥٠) فاقبلوه، تعلمن أني قد قدمت على الملوك، ورأيت (العظماء) (٥١) ⦗٥١٨⦘ (فأقسم) (٥٢) باللَّه (إن) (٥٣) رأيت ملكا ولا عظيما أعظم في أصحابه منه، (إن) (٥٤) يتكلم منهم رجل حتى يستأذنه، فإن هو أذن له تكلم، وإن لم يأذن له سكت، ثم إنه (ليتوضأ) (٥٥) فيبتدرون وضوءه (يصبُّونه) (٥٦) على رؤوسهم، يتخذونه (حنانا) (٥٧)، فلما سمعوا مقالته أرسلوا إليه (سهيل بن عمرو) (٥٨) (ومكرز) (٥٩) بن حفص (فقالوا) (٦٠): انطلقوا إلى محمد فإن أعطاكم ما ذكر عروة فقاضياه على أن يرجع عامه (هذا) (٦١) عنا، ولا يخلص إلى البيت، حتى يسمعَ من يسمعُ (بمسيره) (٦٢) من العرب أنا قد صددناه، فخرج سهيل ومكرز حتى (أتياه) (٦٣) وذكرا ذلك له، (فأعطاهما) (٦٤) الذي سألا فقال: "اكتبوا: بسم اللَّه الرحمن الرحيم"، قالوا: واللَّه لا نكتب هذا أبدا، قال: "فكيف؟ " قالوا: نكتب باسمك اللهم، قال: "وهذه فاكتبوها"، فكتبوها، ثم قال: "اكتب هذا ما (قاضى) (٦٥) عليه ⦗٥١٩⦘ محمد رسول اللَّه ﷺ (٦٦) "، فقالوا: واللَّه، ما نختلف (إلا) (٦٧) في هذا، فقال: "ما أكتب؟ " فقالوا: (انتسب) (٦٨)، (فاكتب) (٦٩) محمد بن عبد اللَّه (قال) (٧٠): " (و) (٧١) هذه حسنة اكتبوها"، فكتبوها، وكان في شرطهم أن بيننا (للعيبة) (٧٢) المكفوفة، وأنه لا أغلا (ولا) (٧٣) (أسلال) (٧٤) -قال أبو أسامة: الأغلال: الدروع، والأسلال: السيوف، ويعني بالعيبة الكفوفة أصحابه يكفهم عنهم-، وأنه من أتاكم منا رددتموه علينا، ومن أتانا منكم لم نردده عليكم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ومن دخل معي فله مثل شرطي"، فقالت قريش: من دخل معنا فهو (منا له) (٧٥) مثل شرطنا، فقالت بنو كعب: نحن معك يا رسول اللَّه ﷺ (٧٦)، وقالت بنو بكر: نحن مع قريش، فبينما هم في الكتاب إذ جاء أبو جندل يرسف في القيود، فقال المسلمون: هذا أبو جندل، فقال رسول اللَّه ﷺ: "هو لي"، وقال سهيل: هو لي، وقال سهيل: اقرأ الكتاب، فإذا هو لسهيل، فقال أبو جندل: يا رسول اللَّه، يا معشر المسلمين، أرد إلى المشركين؟ فقال (عمر) (٧٧): (يا أبا) (٧٨) جندل هذا السيف فإنما هو رجل ⦗٥٢٠⦘ ورجل، فقال سهيل: أعنت علي -يا عمر- فقال رسول اللَّه ﷺ لسهيل: "هبه لي"، قال: لا، قال: " (فأجره) (٧٩) لي"، قال: لا، قال مكرز: قد أجرته لك يا محمد فلم (يُهج) (٨٠) (٨١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیبیہ کی طرف چلے۔ واقعہ حدیبیہ ماہ شوال میں پیش آیا تھا۔ راوی کہتے ہیں : پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل پڑے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عسفان مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنی کعب کا ایک آدمی ملا اور اس نے کہا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم نے قریش کو اس حالت میں چھوڑا ہے کہ انہوں نے آپ کے لئے اپنے مختلف النسل لوگوں کو جمع کیا ہے اور نہیں خزیر (قیمہ اور آٹا کا مرکب) کھلاتے ہیں۔ ان کا ارادہ یہ ہے کہ وہ آپ کو بیت اللہ سے روک دیں گے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکل پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عسفان مقام سے باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قریش کے جاسوس خالد بن ولید ملے اور راستہ میں ان کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آمنا سامنا ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (صحابہ کو) فرمایا : ادھر آ جاؤ ! پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو درختوں کے درمیان ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہموار راستہ سے ہٹ گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمیم پہنچے۔ ٢۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمیم میں فروکش ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطاب فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی اور اللہ تعالیٰ کے شایان شان، ثنا بیان کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اما بعد ! بلاشبہ قریش نے تمہارے لئے اپنے متفرق گروہوں کو جمع کیا ہے اور اس کو خزیر (خاص مرکب غذا) کھلانا شروع کیا ہے۔ اور ان کا ارادہ یہ ہے کہ وہ ہمیں بیت اللہ سے روک ڈالیں۔ تو تم مجھے اپنی رائے سے مطلع کرو ؟ تم لوگ سردار (یعنی اہل مکہ) کی طرف (مقابلہ کے لئے) جانا چاہتے ہو یا تم لوگ ان کے معاونین کی طرف (مقابلہ کے لئے) جانا چاہتے ہو تاکہ ہم ان کو واپس ان کی عورتوں اور بچوں کے پاس پہنچا دیں۔ پس اگر وہ بیٹھ جائیں گے تو وہ اس حالت میں بیٹھیں گے کہ وہ بےبس اور شکست خوردہ ہوں گے۔ اور اگر وہ ہم سے (مقابلہ کا) مطالبہ کریں گے تو وہ ہم سے ایک کمزور اور نرم مطالبہ کریں گے پھر اللہ تعالیٰ انہیں رسوا کر دے گا۔ ٣۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہماری رائے تو یہ ہے کہ ہم سردار کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معین ہیں اور آپ کے مددگار ہیں اور آپ کو غالب کرنے والے ہیں۔ حضرت مقداد بن الاسود نے فرمایا… جبکہ وہ اپنے کجاوہ میں تھے… بخدا ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم آپ سے ایسی بات نہیں کہیں گے جیسا کہ بنی اسرائیل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہی تھی کہ { اذْہَبْ أَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلاَ ، إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ } بلکہ ہم تو کہیں گے۔ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑے اور ہم آپ کے ہمراہ لڑیں گے۔ ٤۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (وہاں سے) نکلے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرم کے قریب پہنچے اور اس کی حدود میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدعاء اونٹنی بیٹھ گئی۔ لوگوں نے کہا۔ یہ اونٹنی اڑ گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خدا کی قسم ! اونٹنی اڑی نہیں ہے اور نہ ہی اڑنا اس کی عادت ہے بلکہ اس کو تو اس ذات نے روکا ہے جس نے ہاتھیوں کو مکہ سے روکا تھا۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا) (اگر) قریش مجھے تعظیم محارم کے لئے دعوت دیں گے تو وہ اس عمل میں مجھ پر سبقت نہیں پاسکیں گے ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا) ادھر آؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذات الحنظل نامی چوٹی کے دائیں جانب کا راستہ پکڑ لیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیبیہ پر پہنچے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں پر پڑاؤ ڈالا تو لوگوں نے ایک کنواں سے پانی لینا شروع کیا۔ ابھی تمام لوگ سیراب نہیں ہوئے تھے کہ کنواں خالی ہوگیا ۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس بات کی شکایت کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو ترکش میں سے ایک تیر نکال کردیا اور فرمایا : اس تیر کو کنویں میں گاڑھ دو ۔ لوگوں نے اس تیر کو کنویں میں گاڑا تو کنواں پانی سے ابلنے لگا اور اس کا پانی اوپر آگیا یہاں تک کہ لوگ خوب سیراب ہوگئے۔ ٥۔ جب قریش کو اس بات کی خبر ہوئی تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بنو حلیس کے بھائی کو بھیجا… یہ اس قوم کا فرد تھا جن کے ہاں ہدی کی تعظیم ہوتی تھی … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہدی کو کھڑا کردو۔ پس جب اس نے ہدی (کے جانور کو

حواشی
(١) في [أ، ب]: (قريش).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) سقط من: [ع].
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) سقط ما بين المعكوفين في: [ي].
(٦) في [ق، هـ]: (فتخالفوهم).
(٧) في [أ، ب]: (موترين).
(٨) سقط من: [ب].
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) في [أ، ب]: (منذاريا)، وفي [س]: (معداريًا).
(١١) في [أ، ب]: (أقواهم).
(١٢) في [جـ، ي]: زيادة (نرى).
(١٣) في [ي]: (نعمد).
(١٤) في [أ، ب، جـ]: (وإن).
(١٥) في [هـ]: (واللَّه).
(١٦) في [ق]: (فاذهب).
(١٧) سقط من: [أ، ب].
(١٨) في [أ، ب]: (والجدعاء).
(١٩) هكذا في [ق، ع، هـ]، وفي بقية النسخ زيادة: (إلا).
(٢٠) في [ب]: (فنزلت).
(٢١) سقط من: [ي]، وفي [أ، ب]: (بالقطن).
(٢٢) سقط من: [س].
(٢٣) في [أ، ب]: (ما قوم).
(٢٤) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٢٥) في [س]: (اللَّه).
(٢٦) سقط من: [أ، ب].
(٢٧) في [ع]: (بأدباش).
(٢٨) في [أ، ب]: (إلا).
(٢٩) في [أ، ب]: (نقلت)، وفي [ع]: (تعلقت).
(٣٠) في [أ، ب]: (عذاراها)، وفي [جـ، س، ي]: (غضراءها).
(٣١) في [أ، ب، جـ]: زيادة (عند).
(٣٢) في [أ، ب، س]: (المطافل).
(٣٣) في [هـ]: (أمرًا).
(٣٤) في [أ، ب]: (منهم).
(٣٥) في [أ، ب]: (ولكن).
(٣٦) في [ب]: (أخاقتهم).
(٣٧) في [ي]: (تذبل)، وفي [ق]: (تذيل).
(٣٨) في [أ، ب]: زيادة (ولا).
(٣٩) في [أ، ب، جـ، س، ي]: (نساؤهم).
(٤٠) في [أ، ب]: زيادة (عليهم).
(٤١) في [أ، ب]: (ننفرد).
(٤٢) في [ي]: (تريدون).
(٤٣) في [أ، ب]: (إلى قريش عروة).
(٤٤) في [أ، ب، س]: (إليكم).
(٤٥) سقط من: [أ، ب، س].
(٤٦) في [أ، ب]: (ينصرفوا).
(٤٧) في [أ، ب]: (أنبيكم).
(٤٨) في [أ، ب]: (حكم).
(٤٩) في [هـ]: (أواشيكم)، وفي [س]: (أواسبكم).
(٥٠) في [ع]: (نصف).
(٥١) في [ع]: (العلماء).
(٥٢) في [ع]: (وأقسما).
(٥٣) في [أ، ب]: (إني).
(٥٤) في [هـ]: (لن) وفي [ق]: (لا).
(٥٥) في [ع]: (ليتوضئ).
(٥٦) في [ق، هـ]: (ويصبونه).
(٥٧) في [أ، ب]: (أحيانًا).
(٥٨) في [أ، ب]: (سهل بن عامر).
(٥٩) في [س]: (وبكرز).
(٦٠) في [ع]: (فقال).
(٦١) سقط من: [أ، ب].
(٦٢) في [ب]: (مسيره).
(٦٣) في [أ، ب]: (أتيا)، وفي [س]: (أتاه).
(٦٤) في [ب]: (فأعطاها).
(٦٥) في [أ، ب]: (قضا).
(٦٦) سقط من: [أ، ب، س].
(٦٧) في [أ]: (إلى).
(٦٨) في [ع]: (فانشيت).
(٦٩) هكذا في [ق، هـ]، وفي بقية النسخ زيادة: (قال فاكتب).
(٧٠) في [أ، ب]: (قالوا).
(٧١) سقط من: [أ، ب].
(٧٢) في [أ، ب]: (اللعيبة)، في [جـ]: (الكعبة).
(٧٣) في [ب]: (إلا).
(٧٤) في [أ]: (وإسلال).
(٧٥) في [أ، ب]: (مناله).
(٧٦) هكذا في: [هـ]، وسقط في بقية النسخ.
(٧٧) سقط من: [س]، وفي [أ، ب]: (يا عمر).
(٧٨) في [ع]: (يابا).
(٧٩) في [أ، ب]: (فأجزه).
(٨٠) أي: لم يتعرض لأبي جندل أحد بالأذى حتى رجع إلى مكة، وفي [ق، ع، هـ]: (ينج).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39609
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي، وأخرجه يعقوب في المعرفة ٣/ ٢٨٦، والبيهقي في دلائل النبوة ٤/ ٩٢، وبنحوه مالك في الموطأ ١/ ٣٤٢ (٧٥٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39609، ترقيم محمد عوامة 37994)