حدیث نمبر: 39607
٣٩٦٠٧ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام عن أبيه أن (أصحاب) (١) رسول اللَّه ﷺ (في) (٢) غزوة بني المصطلق لما أتوا المنزل، وقد جلا أهله أجهضوهم، وقد بقي دجاج في المعدن فكان بين غلمان من المهاجرين وغلمان من الأنصار [قتال، (فقال غلمان) (٣) من المهاجرين: يا (للمهاجرين) (٤)، وقال غلمان من الأنصار] (٥): ⦗٥١٣⦘ (يا للأنصار) (٦)، فبلغ ذلك عبد اللَّه بن أُبيّ (بن) (٧) سلول فقال: أما واللَّه لو أنهم لم ينفقوا عليهم انفضوا من حوله، أما واللَّه لئن رجعنا إلى المدينة ليخرجن الأعز منها الأذل، فبلغ ذلك النبي ﷺ فأمرهم بالرحيل مكانه يشغلهم، فأدرك (ركبا) (٨) من بني عبد الأشهل في المسير فقال لهم: "ألم تعلموا ما قال المنافق عبد اللَّه بن أبي؟ " قالوا: (و) (٩) ماذا قال يا رسول اللَّه؟ (قال) (١٠): "قال: (أما) (١١) واللَّه لو لم (ينفقوا) (١٢) عليهم (لانفضوا) (١٣) من حوله أما واللَّه لئن رجعنا إلى المدينة ليخرجن الأعز منها الأذل"، قالوا: صدق يا رسول اللَّه فأنت واللَّه العزيز وهو الذليل (١٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ غزوہ بنو المصطلق میں جب منزل پر پہنچے۔ تو مہاجرین اور انصار کے کم عمر لڑکوں میں کوئی جھگڑا ہوگیا۔ مہاجرین کے لڑکوں نے کہا۔ یا للمہاجرین۔ اور انصار کے لڑکوں نے کہا۔ یا للانصار۔ یہ خبر عبد اللہ بن ابی بن سلول کو پہنچی تو اس نے کہا۔ ہاں ! بخدا ! اگر انصار ، مہاجرین پر خرچہ نہ کرتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد سے چلے جاتے۔ ہاں ! بخدا ! اگر ہم مدینہ کی طر ف واپس لوٹ گئے تو البتہ ضرور بالضرور عزت والے مدینہ سے ذلت والوں کو نکال دیں گے۔ پس یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو کوچ کرنے کا حکم دیا۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں مشغول کر رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوران سفر بنو عبد الاشہل میں ایک سوار جماعت کو پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا : تمہیں معلوم نہیں ہے کہ منافق عبد اللہ بن ابی نے کیا کہا ہے ؟ انہوں نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس نے کیا کہا ہیَ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے کہا ہے۔ ہاں ! بخدا ! اگر تم (انصار) ان (مہاجرین) پر خرچ نہ کرو تو یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے چلے جائیں گے۔ ہاں۔ بخدا ! اگر ہم مدینہ واپس گئے تو البتہ ضرور بالضرور عزت والے ، مدینہ سے ذلت والوں کو باہر نکال دیں گے۔ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! سچ کہا۔ آپ اور اللہ تعالیٰ عزت والے جبکہ وہ ذلیل ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، س].
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [س]: تكررت.
(٤) في [ع]: (المهاجدين).
(٥) سقط ما بين المعكوفين في: [ي].
(٦) في [ع]: (لأنصار).
(٧) سقط من: [أ، ب، س].
(٨) هكذا في: [ق، هـ]، وفي بقية النسخ: (ركب).
(٩) سقط من: [هـ].
(١٠) سقط من: [ع].
(١١) في [أ، ب]: (أم).
(١٢) في [أ، ب، س، ع]: (ينفقوا).
(١٣) في [ع]: (أنفضوا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39607
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39607، ترقيم محمد عوامة 37992)