مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما حفظت في غزوة بني المصطلق باب: جو روایات میں نے غزوہ بنی المصطلق کے بارے میں محفوظ کی ہیں
٣٩٦٠٦ - حدثنا يحيى بن إسحاق قال: (أخبرنا) (١) يحيى بن أيوب قال: حدثني ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن محمد بن يحيى بن حبان عن ابن محيريز قال: دخلت ⦗٥١٢⦘ أنا وأبو صرمة المازني على أبي سعيد الخدري (فسألناه) (٢) عن العزل (فقال) (٣): أسرنا كرائم العرب، أسرنا نساء بني (عبد) (٤) المصطلق فأردنا العزل، ورغبنا في الفداء [فقال بعضنا: (أتعزلون) (٥) ورسول اللَّه ﷺ بين أظهركم؟ فأتيناه فقلنا: يا رسول اللَّه ﷺ (٦) أسرنا كرائم العرب، أسرنا نساء بني المصطلق فأردنا العزل ورغبنا في الفداء، فقال (النبي) (٧) ﷺ] (٨): " (لا) (٩) عليكم أن لا تفعلوا، فإنه ليس من نسمة كتب اللَّه عليها أن تكون إلى يوم القيامة إلا وهي كائنة" (١٠).حضرت ابن محیریز کہتے ہیں کہ میں اور ابو صرمہ مازنی، حضرت ابو سعید خدری کے پاس حاضر ہوئے اور ہم نے ان سے عزل کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جواب میں ارشاد فرمایا : ہم نے عرب کی صاحب زادیاں قید کی تھی ہم نے بنو المصطلق کی عورتوں کو قید کیا اور ہم نے (ان کے ساتھ) عزل کا ارادہ کیا اور فدیہ لینے میں رغبت ظاہر کی۔ ہم میں سے بعض لوگوں نے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے درمیان موجود ہیں اور تم عزل کرتے ہو ؟ تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم نے عرب کی صاحبزادیاں قید کی ہیں۔ ہم نے بنو المصطلق کی عورتیں قیدی بنائی ہیں۔ اور ہم عزل کا ارادہ رکھتے ہیں اور فدیہ لینے میں رغبت رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں ! تم یہ کام نہ کرو۔ کیونکہ قیامت تک کوئی بھی جان جس کے ہونے کو اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے وہ بہر حال ہو کر رہے گی۔