مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
(ما حفظت) في بني قريظة باب: بنو قریظہ کے بارے میں جو روایات میں نے محفوظ کی ہیں
٣٩٦٠٤ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر قال: حدثنا يزيد بن الأصم قال: لما كشف اللَّه الأحزاب ورجع النبي ﷺ إلى بيته فأخذ يغسل رأسه أتاه جبريل، فقال: عفا اللَّه عنك، وضعت السلاح ولم تضعه ملائكة السماء، (ائتنا) (١) عند حصن بني قريظة، (فنادى رسول اللَّه ﷺ في الناس: "أن ائتوا حصن بني قريظة") (٢)، ثم اغتسل رسول اللَّه ﷺ فأتاهم عند (الحصن) (٣) (٤).حضرت یزید بن اصم سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے لشکروں کو دور کردیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اپنے گھر ی طرف لوٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک دھونا شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جبرائیل حاضر ہوئے اور کہا۔ اللہ تعالیٰ آپ سے درگزر فرمائے۔ آپ نے اسلحہ رکھ دیا ہے۔ حالانکہ آسمان کے فرشتوں نے اسلحہ نہیں رکھا ؟ آپ ہمارے ساتھ بنو قریظہ کے قلعہ کی طرف تشریف لائیے۔ تو نیا کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں میں منادی کروائی کہ بنو قریظہ کے قلعہ پر پہنچو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان لوگوں کے پاس قلعہ پر تشریف لے گئے۔