مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
(ما حفظت) في بني قريظة باب: بنو قریظہ کے بارے میں جو روایات میں نے محفوظ کی ہیں
٣٩٦٠٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبي أمامة بن سهل سمعه يقول: سمعت أبا سعيد الخدري يقول: نزل أهل قريظة على حكم سعد بن معاذ قال: فأرسل رسول اللَّه ﷺ إلى سعد، قال: فأتاه على حمار، قال: فلما أن دنا قريبا من المسجد قال رسول اللَّه ﷺ: "قوموا إلى سيدكم أو (خيركم) (١) "، ثم ⦗٥١٠⦘ قال: "إن هولاء (٢) نزلوا على حكمك"، قال: (تقتل) (٣) مقاتلتهم (وتسبى) (٤) ذراريهم، قال: (فقال) (٥) رسول اللَّه ﷺ: "قضيت بحكم (٦) "، وربما قال: "قضيت بحكم اللَّه" (٧).حضرت ابو سیدط خدری سے روایت ہے کہ اہل قریظہ، حضرت سعد بن معاذ کے فیصلہ پر اترے ۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد کی طرف کسی کو بھیجا۔ حضرت سعد ، ایک گدھے پر تشریف لائے۔ راوی کہتے ہیں : پھر جب حضرت سعد ، مسجد کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنے سردار “ یا فرمایا : ” اپنے میں سے بہترین شخص۔ “ کی تعظیم میں کھڑے ہو جاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ بلاشبہ یہ لوگ تمہارے فیصلہ پر اترے ہیں۔ حضرت معاذ نے فرمایا : ان لوگوں کے لڑنے والوں کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں، بچوں کو قید کرلیا جائے ۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے مالک (الملک) کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ کبھی راوی یہ قول نقل کرتے ہیں : تم نے خدا کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔