حدیث نمبر: 39598
٣٩٥٩٨ - حدثنا يزيد بن هارون (أخبرنا) (١) هشام عن محمد قال: عاهد (٢) حيي (بن أخطب) (٣) رسول اللَّه ﷺ (أن لا) (٤) يظاهر عليه أحدا وجعل (اللَّه) (٥) عليه كفيلا، قال: فلما كان يوم قريظة أتي به وبابنه سلما، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "أُوفي (الكفيل) (٦) "، فأمر به فضربت عنقه وعنق ابنه (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد سے روایت ہے کہ حیی بن اخطب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس شرط پر معاہدہ کیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف کسی کی مدد نہیں کرے گا اور اس بات پر اس نے اللہ تعالیٰ کو کفیل بنایا ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جب بنو قریظہ کا دن آیا۔ اس کو اور اس کے بیٹے کو لایا گیا ۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا انہیں کفیل کے بدلے میں لایا گیا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا ۔ پس اس کی اور اس کے بیٹے کی گردن مار دی گئی۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [أ، ب، س، ع]: زيادة (اللَّه).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [ع]: (إلا).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [ق، هـ]: (الكيل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39598
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ محمد بن سيرين تابعي، وورد الخبر عن يزيد عن هشام عن الحسن مرسلًا عند أبي عبيد في الأموال (٤٦١)، والبلاذري في فتوح البلدان ص ٣٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39598، ترقيم محمد عوامة 37983)