حدیث نمبر: 39594
٣٩٥٩٤ - حدثنا وكيع عن جرير بن حازم عن يعلى بن حكيم والزبير بن (الخريت) (١) وأيوب السختياني كلهم (عن عكرمة) (٢) أن نوفلا - (أو) (٣) ابن نوفل- (تردى) (٤) به فرسُه يوم الخندق فقتل، فبعث أبو سفيان إلى النبي ﷺ (بديته مائة من الإبل، فأبى النبي ﷺ) (٥) (وقال) (٦): "خذوه فإنه خبيث الدية، (خبيث (الجثة) (٧) " (٨) (٩).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ نوفل بن نوفل کو خندق والے دن اس کے گھوڑے نے گرا دیا اور وہ قتل ہوگیا ۔ پس ابو سفیان نے اس کی دیت سو اونٹ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار فرما دیا اور فرمایا : اس کو پکڑ لو۔ کیونکہ اس کی دیت بھی خبیث ہے اور اس کی لاش بھی خبیث ہے۔
حواشی
(١) في [ط، هـ]: (الحريث).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [أ، ب]: (أر).
(٤) في [ع]: (تردا).
(٥) سقط من: [ي].
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) في [ع]: (الجيفة).