٣٩٥٩٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم (عن عكرمة) (١) قال: لما كان يوم الخندق قام رجل من المشركين (٢) فقال: من يبارز؟ فقال رسول اللَّه ﷺ: "قم يا زبير"، فقالت صفية: يا رسول اللَّه (واحدي) (٣)، فقال: "قم يا زبير"، فقام الزبير فقال (رسول) (٤) اللَّه ﷺ: "أيهما علا (٥) ⦗٥٠٧⦘ صاحبَه (قتله) (٦) "، فعلاه الزبير (فقتله) (٧)، (ثم جاء) (٨) بسلبه فنفله النبي ﷺ (إياه) (٩) (١٠).حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ جب خندق کا دن تھا اور مشرکین میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور پوچھا : کون مبارز بنے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے زبیر ! کھڑے ہو جاؤ۔ حضرت صفیہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرا ایک بیٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے زبیر ! کھڑے ہو جاؤ۔ پس حضرت زبیر کھڑے ہوگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان دونوں میں سے جو اپنے ساتھی سے بلند ہوگا وہ دوسرے کو قتل کر دے گا۔ پس حضرت زبیر ، اس سے بلند ہوگئے تو انہوں نے اس کو قتل کردیا۔ پھر حضرت زبیر ، اس مقتول کا سامان لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ سامان انہی کو عطا کردیا۔