٣٩٥٩٠ - حدثنا (هوذة) (١) بن خليفة قال: حدثنا عوف عن ميمون قال: (حدثنا) (٢) البراء بن عازب قال: لما (كان) (٣) حيث أمرنا رسول اللَّه صلى اللَّه ⦗٥٠٥⦘ عليه وسلم أن نحفر الخندق، عرض لنا في بعض الجبل صخرة عظيمة شديدة، لا تدخل فيها المعاول، فاشتكينا ذلك إلى رسول اللَّه ﷺ، (فجاء رسول اللَّه ﷺ) (٤)، فلما رآها أخذ العول (وألقى) (٥) ثوبه، وقال: "باسم اللَّه"، ثم ضرب ضربة فكسر ثلثها، وقال: " (٦) اللَّه أكبر أعطيت (مفاتح) (٧) الشام، واللَّه إني لأبصر قصورها الحمر الساعة"، ثم ضرب الثانية فقطع ثلثا آخر فقال: "اللَّه أكبر، أعطيت (مفاتح) (٨) فارس، واللَّه إني لأبصر قصر المدائن الأبيض"، ثم ضرب الثالثة فقال: "باسم اللَّه"، فقطع بقية الحجر وقال: "اللَّه أكبر أعطيت (مفاتح) (٩) اليمن، واللَّه إني لأبصر أبواب صنعاء" (١٠).حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم خندق کھودیں تو ایک پہاڑ کے اندر ہمارے سامنے ایک بڑی چٹان آگئی۔ جس میں کدالیں داخل نہیں ہوتی تھیں۔ ہم نے اس بات کی شکایت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چٹان کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدال ہاتھ میں لی اور اپنا کپڑا رکھ دیا۔ اور فرمایا : بسم اللہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ضرب لگائی تو ایک تہائی چٹان ٹوٹ گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ اکبر ! شام کی چابیاں عطا کردی گئیں ہیں۔ بخدا ! مجھے اس وقت اس کے سرخ محلات دکھائی دے رہے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری ضرب لگائی ۔ تو ایک تہائی چٹان مزید ٹوٹ گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ اکبر ! فارس (کے خزانوں) کی چابیاں عطا کردی گئی ہیں۔ بخدا ! مجھے مدائن کا سفید محل دکھائی دے رہا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری ضرب لگائی اور فرمایا : بسم اللہ ! تو بقیہ چٹان بھی ٹوٹ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ اکبر ! یمن (کے خزانوں) کی کنجیاں عطا کردی گئی ہیں۔ بخدا ! مجھے صنعاء کے دروازے دکھائی دے رہے ہیں۔