٣٩٥٨٦ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أبي معشر قال: جاء الحارث بن عوف (وعيينة) (١) بن حصن فقالا لرسول اللَّه ﷺ عام الخندق: نكف عنك غطفان على أن تعطينا ثمار المدينة، قال: فراوضوه حتى استقام الأمر على نصف ثمار المدينة، فقالوا: اكتب بيننا وبينك كتابا، فدعا بصحيفة، قال: (والسعدان) (٢) - (سعد) (٣) ابن معاذ وسعد بن عبادة- جالسان، فأقبلا على رسول اللَّه ﷺ (فقالا) (٤): أشيء أتاك عن اللَّه ليس لنا أن نعرض فيه، قال: "لا، ولكني أردت أن أصرف وجوه هؤلاء عني ويفرغ وجهي لهؤلاء"، قال: (قالا) (٥) له: ما نالت منا العرب في جاهليتنا (شيئا) (٦) إلا (بشراء) (٧) أو قرى (٨).حضرت ابو معشر سے روایت ہے کہ حارث بن عوف اور عیینہ بن حصن آئے اور انہوں نے عام خندق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ ہم آپ سے غطفان کو روک کر رکھیں گے اس شرط پر کہ آپ ہمیں مدینہ کے پھل دیں گے۔ راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کمی بیشی کی بات کی اور معاملہ مدینہ کے نصف پھلوں پر طے ہوگیا۔ انہوں نے کہا۔ ہمارے اور اپنے مابین آپ کوئی تحریر لکھ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کاغذ منگوایا ۔ راوی کہتے ہیں : سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ دونوں تشریف فرما تھے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا۔ کیا آپ کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی ایسی بات آئی ہے جس سے ہم اعراض نہیں کرسکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں ! الیکن میرا ارادہ ہے کہ میں ان لوگوں کے چہروں کو خود سے پھیر دوں اور میں اپنے چہرے کو ان کے لئے فارغ کرنا چاہتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ دونوں صحابیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ ہماری جاہلیت کے زمانہ میں عرب نے کبھی ہم سے کچھ نہیں لیا تھا۔ سوائے خریداری اور مہمان نوازی کے۔