٣٩٥٨٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) ابن (أبي) (٢) ذئب عن المقبري عن عبد الرحمن بن أبي سعيد الخدري عن أبيه قال: حبسنا يوم الخندق عن الظهر والعصر والمغرب والعشاء حتى (كفينا) (٣) ذلك، (و) (٤) ذلك قول اللَّه: ﴿(وَكَفَى) (٥) اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا﴾ [الأحزاب: ٢٥]، (فقام) (٦) رسول اللَّه ﷺ فأمر بلالًا، فأقام ثم صلى (الظهر) (٧) كما كان يصليها قبل ذلك، ثم (٨) أقام العصر فصلاها كما كان يصليها قبل ذلك، ثم أقام فصلى (المغرب) (٩) كما كان يصليها قبل ذلك، ثم (أقام) (١٠) فصلى العشاء كما كان يصليها قبل ذلك) (١١) وذلك قبل أن (ينزل) (١٢): ﴿خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا﴾ [البقرة: ٢٣٩] (١٣).حضرت عبد الرحمان بن ابو سعید خدری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ خندق کے دن ہمیں ظہر، عصر اور مغرب ، عشا سے محبوس رکھا گیا ۔ یہاں تک کہ ہمیں اس سے کفایت دے دی گئی۔ یہی ارشاد خداوندی (کا معنی) ہے۔ { وَکَفَی اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ ، وَکَانَ اللَّہُ قَوِیًّا عَزِیزًا } پھر نبی کریم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا۔ انہوں نے اقامت کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی ، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے ظہر کی نماز پڑھتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے عصر کے لئے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز بھی ادا کی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، عصر کی نماز پہلے پڑھتے تھے۔ پھر حضر ت بلال نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا فرمائی جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے مغرب پڑھتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشا کی نماز ادا کی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے عشاء ادا کرتے تھے۔ اور یہ واقعہ { فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً ، أَوْ رُکْبَانًا } کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔