حدیث نمبر: 39580
٣٩٥٨٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) حماد بن سلمة عن هشام عن أبيه قال: كان في أصحاب رسول اللَّه ﷺ رجل يقال له: مسعود، وكان نماما، ⦗٥٠٠⦘ فلما كان يوم الخندق بعث أهلُ قريظة إلى أبي سفيان أن ابعث إلينا رجالا (٢) يكونون في آطامنا حتى نقاتل محمدا (٣) مما يلي المدينة، وتقاتل أنت مما يلي الخندق، (فشق) (٤) ذلك على النبي ﷺ أن يقاتل من وجهين، فقال لمسعود: "يا مسعود إنا نحن بعثنا إلى بني قريظة أن يرسلوا إلى أبي سفيان فيرسل إليهم (رجالا) (٥) فإذا أتوهم قتلوهم"، قال: فما عدا (أن سمع ذلك) (٦) من النبي ﷺ قال: فما تمالك حتى أتى أبا سفيان فأخبره، فقال: صدق -واللَّه- محمد ما كذب قط، فلم يبعث (إليهم) (٧) أحدا (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ہشام ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں میں ایک صاحب تھے جنہیں ” مسعود “ کہا جاتا تھا۔ یہ بہت چغل خور تھے۔ پس جب خندق کا دن تھا تو بنو قریظہ نے ابو سفیان کی طرف پیغام بھیجا ۔ تم ہماری طرف کچھ بندے بھیج دو جو ہمارے قلعوں میں (مورچہ زن) ہوں تاکہ ہم محمد کے ساتھ مدینہ کی (اندرونی) طرف سے قتال کریں اور تم لوگ خندق کی طرف سے قتال کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو جانب سے لڑنا مشکل محسوس ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسعود سے کہا۔ اے مسعود ! ہم نے بنو قریظہ کی طرف یہ پیغام بھیجا ہے کہ وہ ابو سفیان کی طرف اپنے افراد بھیجیں جب ابو سفیان ان کی طرف اپنے آدمی بھیجے گا تو بنو قریظہ والے ان کو قتل کردیں گے۔ جب مسعودنے یہ بات سنی تو ان سے صبر نہ ہوا اور انہوں نے یہ بات جا کر ابوسفیان کو بتادی۔ ابوسفیان نے کہا کہ خدا کی قسم ! محمد نے ہمیشہ سچ کہا کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ چناچہ اس نے بنو قریظہ کی طرف کسی کو نہیں بھیجا۔ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل جنگی تدبیر کا حصہ تھا) ۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (أنبأنا).
(٢) في [ي]: زيادة (لا).
(٣) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﷺ.
(٤) في [ي]: (نسق).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [أ، ب]: (ذلك سمع).
(٧) في (ق): (إليه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39580
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39580، ترقيم محمد عوامة 37965)