٣٩٥٧٨ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ (صاف) (١) (المشركين) (٢) يوم الخندق قال: وكان (يوما) (٣) شديدا لم يلق المسلمون مثله قط، قال: ورسول اللَّه ﷺ جالس وأبو بكر معه جالس، وذلك زمان طلع النخل، قال: وكانوا يفرحون به (إذا رأوه) (٤) فرحا شديدا لأن عيشهم فيه، قال: فرفع أبو بكر ⦗٤٩٩⦘ رأسه فبصر (بطلعة) (٥) وكانت أول طلعة رئيت (٦)، فقال: هكذا، بيده طلعة يا رسول اللَّه -من الفرح-، قال: فنظر (إليه رسول اللَّه ﷺ) (٧) فتبسم (وقال) (٨): "اللهم لا تنزع منا (صالح) (٩) ما أعطيتنا أو صالحا (١٠) أعطيتنا" (١١).حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کے مقابل صف بندی فرمائی۔ راوی کہتے ہیں : یہ بہت سخت دن تھا۔ مسلمانوں نے اس جیسا دن کبھی نہیں دیکھا تھا۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے اور حضرت ابوبکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تشریف فرما تھے اور یہ وقت کھجوروں کی پیداواری کا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ لوگ کھجور کے زمانہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے کیونکہ ان کی زندگی (کا مدار ہی) اس پر تھا۔ راوی کہتے ہیں : پھر ابوبکر نے سر اٹھایا تو انہیں کھجور کا شگوفہ دکھائی دیا۔ یہ پہلا دکھائی دینے والا شگوفہ تھا۔ راوی کہتے ہیں : انہوں نے خوشی کی وجہ سے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! شگوفہ۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر تبسم فرمایا۔ اے اللہ ! جو صالح چیز تو ہمیں عطا کرے وہ ہم سے واپس نہ چھیننا۔