٣٩٥٧٣ - حدثنا (يزيد) (١) بن هارون قال: (أخبرنا) (٢) محمد بن عمرو عن أبيه عن جده عن عائشة قالت: قدمنا (في) (٣) حج أو عمرة فتلقينا بذي الحليفة، وكان غلمان الأنصار يتلقون أهاليهم، فلقوا أسيد بن حضير فنعوا له امرأته (فتقنع) (٤)، فجعل يبكي، فقلت: غفر اللَّه لك، أنت صاحب رسول اللَّه ﷺ ولك من السابقة والقدم ما لك، وأنت تبكي على امرأة، قالت: فكشف رأسه، (فقال) (٥): صدقت لعمري ليحقن (أن) (٦) لا أبكي على (أحد) (٧) بعد سعد بن معاذ، وقد ⦗٤٩٧⦘ قال له رسول اللَّه ﷺ (ما) (٨) (قال) (٩) (١٠)، (قلت) (١١): وما قال له رسول اللَّه ﷺ؟ قال: "لقد اهتز العرش (لوفاة) (١٢) سعد بن معاذ"، قالت: هو يسير بيني وبين رسول اللَّه ﷺ (١٣) (١٤).حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم حج یا عمرہ کے سلسلہ میں آئے اور ذوالحلیفہ سے ہمارا استقبال کیا گیا۔ انصار کے بچے اپنے گھر والوں کا استقبال کیا کرتے تھے۔ لوگ حضرت اسید ابن حضیر سے ملے اور انہیں ان کی اہلیہ کی وفات کی خبر دی۔ انہوں نے سر پر کپڑا کرلیا اور رونا شروع کردیا۔ میں نے ان سے کہا : اللہ تعالیٰ تمہاری بخشش کریں۔ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی ہو اور تمہیں سبقت اور قدامت میں بھی ایک مقام حاصل ہے اور تم ایک عورت پر رو رہے ہو ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ انہوں نے اپنا سر کھول دیا اور کہا : میری عمر کی قسم ! آپ نے سچ کہا ہے۔ حضرت سعدبن معاذ کے بعد کسی پر بھی رونے کا حق باقی نہیں ہے۔ ا ن کے بارے میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو فرما دیا تھا فرما دیا تھا۔ میں نے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں کیا کہا تھا۔ انہوں نے کہا۔ (یہ کہا تھا) بلاشبہ ! سعد بن معاذ کی وفات پر عرش بھی جھوم گیا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کیتر ہیں۔ اُسید ، میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان چل رہے تھے۔