٣٩٥٧٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن مجاهد عن ابن عمر قال: لقد اهتز العرش لحب لقاء اللَّه سعدا، قال: (إنما يعني السرير) (١)، ورفع أبويه على العرش قالت: تفسخت أعواده، قال: دخل رسول اللَّه ﷺ قبره (فاحتبس) (٢) فلما قالوا: يا رسول اللَّه ما حبسك؟ قال: "ضم سعد في القبر ضمة (فدعوت) (٣) اللَّه أن يكشف عنه" (٤).حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سعد سے ملاقات پر عرش جھوم گیا۔ یعنی تخت… فرمایا : { وَرَفَعَ أَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ } راوی کہتے ہیں ۔ تخت کی لکڑیاں جدا جدا ہوگئیں۔ راوی کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت سعد کی قبر میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں ٹھہر گئے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تو لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کس بات کی وجہ سے آپ اندر ٹھہرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سعد کی قبر کو ملایا گیا تو میں نے اللہ سے اس کیفیت کے ختم ہونے کی دعا کی۔