حدیث نمبر: 39556
٣٩٥٥٦ - حدثنا مالك قال: (حدثنا) (١) يعقوب (بن) (٢) عبد اللَّه (عن) (٣) جعفر ابن أبي المغيرة عن ابن أبزى قال: بارز علي يوم أحد من بني شيبة طلحة (ومسافعا) (٤)، قال: وسمى إنسانا آخر، قال: فقتلهم سوى من قتل من الناس فقال لفاطمة حيث نزل: خذي السيف غير ذميم فقال له رسول اللَّه ﷺ: "لئن كنت أبليت فقد أبلى (فلان الأنصاري) (٥) وفلان الأنصاري (وفلان الأنصاري) (٦) حتى انقطع نفسه أو كاد ينقطع نفسه" (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن ابزی سے روایت ہے کہ احد کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بنی شیبہ میں سے طلحہ اور مسافع کے ساتھ مبارزت کی۔ راوی کہتے ہیں : ایک اور آدمی کا نام بھی (استاد) نے لیا تھا۔ راوی کہتے ہیں : پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو عام لوگوں (کفار) کو قتل کیا تھا ان کے سوا ان تینوں کو بھی قتل کردیا۔ پھر جب آپ واپس تشریف لائے تو حضرت فاطمہ سے کہا۔ بغیر مذمت کے تلوار کو پکڑو۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے عمدگی سے قتال کیا ہے تو فلاں انصاری نے بھی اور فلاں انصاری نے بھی اور فلاں انصاری نے بھی بہترین قتال کیا ہے۔ یہاں تک کہ اپنی جان ختم کردی یا جان ختم کرنے کے قریب ہوگئے۔

حواشی
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [س]: (عن).
(٣) في [ط]: (بن).
(٤) في [ع]: (مسافع).
(٥) في [أ، ب، ع]: (عتبة).
(٦) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39556
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ابن أبزى، هو سعيد بن عبد الرحمن تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39556، ترقيم محمد عوامة 37947)