مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
هذا ما حفظ أبو بكر في أحد وما جاء فيها باب: یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ اُحد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
٣٩٥٥٣ - حدثنا أبو أسامة عن شعبة عن عدي بن ثابت عن عبد اللَّه بن يزيد عن زيد بن ثابت قال: (لما خرج رسول اللَّه ﷺ إلى أحد خرج معه ناس فرجعوا، ⦗٤٨٤⦘ قال: فكان أصحاب رسول اللَّه ﷺ) (١) فيهم فرقتين: قالت فرقة: (نقتلهم) (٢)، وفرقة (قالت) (٣): لا نقتلهم، فنزلت: ﴿(فَمَا لَكُمْ) (٤) فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا﴾ [النساء: ٨٨]، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "إنها طيبة، وإنها تنفي (الخبث) (٥) كما تنفي النار خبث (الفضة) (٦) " (٧).حضرت زید بن ثاب سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُحد کی طرف نکلے تو کچھ (منافق) لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے پھر واپس آگئے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ، ایسے لوگوں کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک جماعت نے کہا۔ ہم ان سے قتال کریں گے ۔ اور دوسری جماعت نے کہا۔ ہم ان سے قتال نہیں کریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : { فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنَافِقِینَ فِئَتَیْنِ وَاللَّہُ أَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوا } راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ طیبہ ہے اور یہ خباثت کو یوں ختم کردیتا ہے۔ جیسا کہ آگ چاندی کی گندگی کو ختم کردیتی ہے۔