مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
هذا ما حفظ أبو بكر في أحد وما جاء فيها باب: یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ اُحد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
٣٩٥٥١ - حدثنا خالد بن مخلد قال: (حدثنا) (١) (عبد الرحمن) (٢) بن عبد العزيز قال: حدثنا الزهري عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ قال يوم أحد: "من رأى مقتل حمزة؟ " فقال رجل (أعزل) (٣): أنا رأيت مقتله، قال: فانطلق (فأرناه) (٤)، فخرج حتى وقف على حمزة فرآه قد ⦗٤٨٣⦘ (بقر) (٥) بطنه وقد مثل به، فقال: يا رسول اللَّه مثل به (واللَّه) (٦)، فكره رسول اللَّه ﷺ أن ينظر إليه، ووقف بين ظهراني القتلى فقال: " (أنا) (٧) شهيد على هؤلاء القوم، لفوهم في دمائهم فإنه ليس جريح يجرح إلا جرحه يوم القيامة يدمى، لونه لون الدم، وريحه ريح المسك، قدموا أكثر القوم قرآنا (فاجعلوه) (٨) في اللحد" (٩).حضرت عبد الرحمان بن کعب بن مالک، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن ارشاد فرمایا : حمزہ کا مقتل کس نے دیکھا ہے ؟ ایک نہتے شخص نے کہا۔ میں نے حمزہ کا مقتل دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ چلو اور ہمیں ان کا مقتل دکھاؤ۔ پس وہ شخص نکلا یہاں تک کہ وہ حضرت حمزہ کی لاش پر آ کر کھڑا ہوا اور اس نے حمزہ کو دیکھا کہ ان کے پیٹ کو پھاڑا گیا ہے اور ان کا مثلہ بنایا گیا ہے۔ تو اس آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! بخدا ! ان کا تو مثلہ کیا گیا ہے ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمزہ کی طرف دیکھنے کو ناپسند کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقتولین کے درمیان کھڑے ہوگئے اور فرمایا : میں بذات خود ان لوگوں پر گواہ ہوں ۔ انہیں ان کے خون سمیت لپیٹ دو ۔ کیونکہ (ان میں سے) کوئی بھی مجروح، جس کو زخمی کیا گیا ہے۔ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا زخم خون برسا رہا ہوگا۔ اس کا رنگ خون کا رنگ ہوگا اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو ہوگی۔ ان لوگوں میں سے زیادہ قرآن والے کو مقدم کرو اور اس کو (پہلے) لحد میں داخل کرو۔