حدیث نمبر: 39550
٣٩٥٥٠ - حدثنا أحمد بن عبد اللَّه قال: حدثنا أبو بكر (عن) (١) يزيد (عن) (٢) مقسم عن ابن عباس قال: لما قتل حمزة يوم أحد أقبلت صفية تطلبه لا تدري ما صنع، قال: فلقيت عليا والزبير، فقال علي للزبير: (اذكره) (٣) لأمك، وقال الزبير: ⦗٤٨٢⦘ لا، بل (٤) (اذكره) (٥) أنت لعمتك، قالت: ما فعل حمزة؟ قال: (فأرياها) (٦) أنهما لا يدريان، قال: فجاء النبي ﷺ فقال: "إني لأخاف على عقلها"، قال: فوضع (يده) (٧) على صدرها ودعا لها، قال: فاسترجعت وبكت، قال: ثم جاء فقام عليه وقد مثل به، فقال: " (لولا) (٨) جزع النساء لتركته حتى يحشر من حواصل الطير وبطون (السباع) (٩) "، قال: ثم أمر بالقتلى فجعل يصلي عليهم، قال: (فيضع) (١٠) تسعة وحمزة، فيكبر عليهم سبع تكبيرات، ثم يرفعون ويترك حمزة، ثم يجاء فيكبر عليهم سبعا حتى فرغ منهم (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب احد کے دن حضرت حمزہ قتل ہوگئے تو حضرت صفیہ انہیں تلاش کرنے کو آئیں۔ انہیں خبر نہیں تھی کہ کیا ہوا ہے۔ راوی کہتے ہیں : ان کی ملاقات حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زبیر سے ہوئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت زبیر سے کہا۔ اپنی والدہ کو حضرت حمزہ کے بارے میں بتاؤ۔ حضرت زبیر نے کہا۔ نہیں ! بلکہ آپ انہیں اپنے چچا کے بارے میں بتاؤ۔ حضرت صفیہ کہنے لگی۔ حمزہ نے کیا کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : ان دونوں (علی رضی اللہ عنہ ، زبیر ) نے اسے یہ ظاہر کیا کہ انہیں خبر نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا : مجھے اس کی عقل پر خوف ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک ان کے سینہ پر رکھا اور ان کے لئے دُعا کی۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر حضرت صفیہ نے اناللہ پڑھا اور رو پڑیں ۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور حضرت حمزہ کے پاس کھڑے ہوئے۔ درآنحالیکہ ان کا مثلہ کیا گیا تھا۔ اور فرمایا : اگر عورتوں کا رونا دھونا نہ ہوتا تو میں ان (حمزہ) کو یونہی چھوڑ دیتا تاکہ یہ میدان محشر میں پرندوں کے پوٹوں اور درندوں کے پیٹوں سے جمع ہو کر آتے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہداء کے بارے میں حکم دیا : اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر نماز جنازہ پڑھنی شروع کی۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نو افراد کو اور ساتھ حضرت حمزہ کو رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر سات تکبیرات میں جنازہ پڑھا۔ پھر باقی میتیں اٹھا دی گئیں اور حمزہ کو چھوڑ دیا گیا پھر نو افراد کو لایا گیا اور ان پر سات تکبیرات کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنازہ پڑھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے فارغ ہوگئے۔

حواشی
(١) في [جـ]: (ابن).
(٢) في [جـ]: (ابن).
(٣) في [أ، ب، ط، هـ]: (اذكر).
(٤) في [ع]: زيادة (قل).
(٥) في [أ، ب، ط، هـ]: (اذكر).
(٦) في [أ، ب]: (فأراهما).
(٧) في [أ، ب]: (يدها).
(٨) في [أ]: (لولى).
(٩) في [جـ]: بياض.
(١٠) في [ي]: (فنضع).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39550
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه الحاكم ٣/ ١٩٧، وابن ماجه (١٥١٣)، وابن سعد ٣/ ١٤، والطحاوي ١/ ٥٠٣، والطبراني ٣/ (٢٩٣٥)، والبيهقي ٤/ ١٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39550، ترقيم محمد عوامة 37941)