حدیث نمبر: 39548
٣٩٥٤٨ - حدثنا محمد بن مروان عن عمارة بن أبي حفصة عن عكرمة قال: شج النبي ﷺ (في وجهه يوم أحد) (١) وكسرت رباعيته، (وذلق) (٢) من العطش حتى ⦗٤٨١⦘ جعل (يقع) (٣) على ركبتيه، وتركه أصحابه فجاء أبي بن خلف يطلبه بدم أخيه أمية بن خلف، فقال: أين هذا الذي يزعم أنه نبي فليبرز (لي) (٤) فإنه إن كان نبيا قتلني، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أعطوني الحرية"، فقالوا: يا رسول اللَّه وبك حراك فقال: "إني قد (استسقيت) (٥) (اللَّه) (٦) دمه"، فأخذ الحربة ثم مشى إليه فطعنه فصرعه عن دابته وحمله أصحابه فاستنقذوه، فقالوا (له) (٧): ما نرى بك بأسا، قال: "إنه قد (استسقى) (٨) اللَّه دمي، إني لأجد لها ما لو كانت على ربيعة ومضر لوسعتهم" (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ احد کے دن، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک میں زخم آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے والے چار دانت مبارک شہید ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیاس کی وجہ سے لبِ دم ہوگئے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھٹنوں کے بل جھکنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے علیحدہ ہوگئے۔ تو ابی بن خلف، اپنے بھائی امیہ بن خلف کے خون کا مطالبہ کرتا ہوا آیا اور کہنے لگا۔ کہاں ہے وہ آدمی ! جو گمان کرتا ہے کہ وہ نبی ہے۔ میرے ساتھ مبارزت کرے۔ پس اگر وہ نبی ہوا تو وہ مجھے قتل کر دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے نیزہ دے دو ۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ میں حرکت ہے ؟ (یعنی آپ تو پیاسے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ بلاشبہ میں نے اللہ تعالیٰ سے اس کے خون کے ذریعہ سے سیرابی طلب کی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نیزہ پکڑا اور اس کی طرف چل دیئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو نیزہ مارا اور اس کو اس کی سواری سے گرا دیا۔ اُبی بن خلف کے ساتھیوں نے اس کو اٹھا لیا اور اس کو بچا کرلے گے اور انہوں نے اس کو کہا۔ ہمارے خیال میں تو تمہیں کچھ بھی نہیں ہوا ؟ اس نے جواب دیا۔ بلاشبہ انہوں ( نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے اللہ تعالیٰ سے میرے خون کے ذریعہ سیرابی مانگی ہے۔ پس میں وہ تکلیف محسوس کر رہا ہوں کہ اگر وہ قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر کے لئے ہوتی تو ان کو بھی کفایت کر جاتی۔

حواشی
(١) في [ع]: (يوم أحد في وجهه).
(٢) في [أ، ب]: (وملق).
(٣) في [ي]: (تقع).
(٤) في [جـ، ق]: (إلي).
(٥) في [ق، هـ]: (استسعيت).
(٦) سقط من: [جـ].
(٧) سقط من: [جـ].
(٨) في [ق، هـ]: (استسعى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39548
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عكرمة تابعي، وورد أوله من حديث عكرمة عن ابن عباس، أخرجه ابن عدي في الكامل ٥/ ٢٩٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39548، ترقيم محمد عوامة 37939)